تہران میں اعلیٰ سطحی وفود کی اہم سفارتی سرگرمیوں کے درمیان، پاکستان کی فوج نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبون میں شائع ہونے والے رائٹرز کے انٹرویو کے مطابق، مسلح افواج موجودہ کشیدگی میں کمی کے راستے پر "محتاط امید" رکھتی ہیں۔

راولپنڈی میں انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے تہران کے اعلیٰ سطحی دورے کے بعد رائٹرز کو اپنا پہلا انٹرویو دیا۔ ایکسپریس ٹریبون کے مطابق، چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک ہی ماہ میں دو بار تہران کا دورہ کیا، جن میں سے آخری دورے میں وہ سعودی اور ترک حکام کے ہمراہ تھے۔

دوروں کی بار بار آمد و رفت کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر، ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل چودھری نے کہا کہ فیلڈ مارشل دو بار کیوں جائیں گے اگر اس میں کوئی مثبت بات نہ ہو؟ تو ہاں، یقیناً۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے طاقتور عناصر اور تخریب کار اب بھی موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ تنازع میں ہی ان کا مفاد ہے۔

پس منظر

ایکسپریس ٹریبون کے مطابق، پیر کے روز تہران میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے ساتھ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالین بھی موجود تھے۔ یہ سفارتی اقدامات 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کے تحت کسی بھی دستخط کنندہ ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ایران اور امریکہ کے تنازع کی وجہ سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے درمیان، ایرانی حکام کا یہ موقف رہا ہے کہ علاقائی سکیورٹی کو بیرونی مداخلت کے بغیر مقامی ممالک کو ہی یقینی بنانا چاہیے، جیسا کہ ایکسپریس ٹریبون نے رپورٹ کیا۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے واضح کیا کہ دفاعی معاہدے کے الفاظ نئے ارکان کی شمولیت کو نہیں روکتے، اور جو بھی اجتماعی ڈیٹرنس اور علاقائی امن کا وژن رکھتا ہے، سیاسی قیادت کے فیصلوں کے تابع اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

اس کی اہمیت

پاکستان میں خبریں سننے والے عام شہریوں کے لیے، یہ پیش رفت علاقائی سکیورٹی اور بحران کے حل میں ملک کے فعال سفارتی کردار کو ظاہر کرتی ہے۔ ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے پرعزم ہے، جبکہ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا حصہ نہیں ہے۔