جنوبی وزیرستان اور پارہ چنار سے ملحقہ افغان سرحد پر کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب پاک فوج نے افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ پر بھرپور جوابی کارروائی کی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں اور فوجی تنصیبات تباہ کر دی گئیں، جبکہ جوابی کارروائی کے بعد حریف اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ فوجی اقدام 27 اکتوبر کو انگور اڈا کے مقام پر کابل رژیم کے اہلکاروں کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے ردعمل میں کیا گیا۔ اس سے قبل اسی علاقے میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر لوئر جنوبی وزیرستان کے مطابق ایک موٹرس شیل انگور اڈا بازار اور قریبی رہائشی علاقوں پر گرا تھا، جس سے دکانوں کو نقصان پہنچا۔ اس صورتحال پر پاکستانی فورسز نے سرحد پر مؤثر اور طاقتور جواب دیا۔
پس منظر
سکیورٹی ذرائع اور مقامی حکام کے مطابق انگور اڈا کے شعبے میں اس طرح کے سرحدی واقعات کا سلسلہ پرانا ہے۔ رواں سال اپریل کے آخر میں بھی سرحد پار سے ہونے والی موٹرس شیلنگ سے جنوبی وزیرستان میں شہریوں کے گھروں کو نقصان پہنچا اور لوگ زخمی ہوئے تھے، جس پر پاکستانی فورسز نے افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان واقعات سے قبل فروری میں بھی جھڑپیں ہوئی تھیں جب پاکستان نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا تھا۔ اسلام آباد مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کابل حکومت اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
اہمیت کیوں ہے؟
پاکستان کے عام شہریوں، بالخصوص سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے یہ کشیدگی روزمرہ زندگی، امن اور مقامی کاروبار پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ مغربی سرحد پر پیش آنے والے ان سکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے عام آبادی کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال واضح ہوتی ہے۔

