اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان کا دوٹوک موقف
عالمی ادارے کا ایوان ایک بار پھر خطے کے دیرینہ اور گمبھیر تنازع کا گواہ بن گیا، جہاں اسلام آباد نے اپنے مشرقی ہمسائے پر براہ راست سنگین الزامات عائد کیے۔ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے ان سرحد پار دہشت گردانہ کارروائیوں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا جو ملک کے اندرونی امن اور سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے باضابطہ طور پر الزام عائد کیا ہے کہ بھارت ہمسایہ ملک افغانستان کے اندر سے چلنے والی پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ان الزامات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے قونصلر محمد جواد اجمال نے کیا، جن کی تفصیلات پاکستان کے مشن کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ (@PakistanUN_NY) پر بھی شیئر کی گئیں۔
جن تنظیموں کے نام لیے گئے
اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستانی سفارت کار نے ملک کو درپیش سیکیورٹی خطرات کی نوعیت پر کھل کر روشنی ڈالی۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ملک کے اندر خون خرابے کے لیے سرگرم عسکری نیٹ ورکس کو بیرونی امداد اور سہولت کاری میسر ہے۔
جیو نیوز کے مطابق قونصلر نے واضح کیا کہ بھارت اہم عسکری تنظیموں کی پشت پناہی کر رہا ہے، اور اس ضمن میں خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا نام لیا گیا۔ اس سفارتی اقدام میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان گروہوں کو افغان سرزمین کے راستے مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سفارتی اثرات اور عالمی برادری کی ذمہ داری
عالمی فورم پر دیے گئے ان بیانات سے خطے کے دو ایٹمی قوتوں کے حامل ہمسایوں کے درمیان سیکیورٹی کے امور پر جاری کشیدگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ میں اس معاملے کو باضابطہ طور پر اٹھانے کے فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اپنے امن کو درپیش چیلنجز کے بیرونی اور سرحد پار محرکات پر عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے کس قدر پرعزم ہے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وفد نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے۔ اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پراکسیز کے استعمال اور مسلح شورشوں کے لیے ملنے والی غیر ملکی مدد کا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا۔
