بی بی سی نیوز کے مطابق آسٹریلیا میں دائیں بازو کی مقبول عام جماعت 'ون نیشن' کے ایک رضاکار کو ٹورquay میں ان کے گھر کے باہر بیس بال بیٹ سے مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ یہ مقام میلبرن سے تقریباً 100 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں رضاکار زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں پولیس کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر اور مستحکم ہے۔
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اتوار کی رات پولیس نے اس مبینہ حملے کے سلسلے میں 37 سالہ شخص اور 14 سالہ لڑکے کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے بتایا کہ بالغ ملزم پر جسمانی تشدد کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے ریمینڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ کم عمر لڑکے کو وارننگ جاری کی گئی ہے۔
'ون نیشن' کے وکٹوریہ کے رہنما وارن پیکرنگ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں افراد نے رضاکار کی جائیداد پر لگے انتخابی بینرز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ وارن پیکرنگ نے اس مبینہ حملے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا سیاسی تشدد یا دباؤ آسٹریلوی روایات کے منافی ہے، اور ووٹرز کو اپنے خیالات کا اظہار تشدد کے بجائے بیلٹ باکس کے ذریعے کرنا چاہیے۔
وکٹوریہ کے پریمئیر بین کارول نے بھی اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ بین کارول نے اس بات پر زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رضاکار محض اپنے نظریے کے تحت میدان میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں کبھی بھی حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق یہ مبینہ حملہ وکٹوریہ میں جاری صوبائی انتخابی مہم کے دوران پیش آیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریلیا میں سیاسی بحث کے معیار پر ملک بھر میں غور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر گزشتہ ماہ وفاقی رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز پر ہونے والے حملے کے بعد۔ اگرچہ پولیس نے ہیلن ہینز پر حملے کی کوئی حتمی وجہ بیان نہیں کی ہے—جس کے نتیجے میں ان کی دونوں ٹانگیں کاٹنی پڑی تھیں—تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیاستدانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی بحث میں تلخی کی وجہ سے ملک بھر میں سیاسی تشدد کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
اس واقعے کی اہمیت
پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین کے لیے سیاسی تشدد کے یہ واقعات اس عالمگیر چیلنج کو اجاگر کرتے ہیں کہ انتخابی مہمات کے دوران شائستہ گفتگو اور سیاسی اخلاقیات کو کیسے برقرار رکھا جائے۔ آسٹریلیا میں سیاسی رضاکاروں کی سلامتی اور عوامی مباحثے کے معیار پر ہونے والی بحث دنیا بھر میں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ جمہوری معاشروں میں سیاسی اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنا کتنا ضروری ہے۔

