اسلام آباد کے ایوانِ اقتدار میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب وفاقی وزیر دفاع نے یہ اعلان کیا کہ تہران کے ساتھ حالیہ اعلیٰ سطح کے دوروں میں امن کے سوا کسی اور موضوع پر بات نہیں ہوئی۔ جیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تہران میں ہونے والی بات چیت وزارتِ دفاع کے دائرہ کار میں نہیں آتی تھی اور وہاں ان کی اپنی موجودگی بھی ضروری نہیں تھی۔ انہوں نے ان مذاکرات کو دیگر دو ایسے دفاعی انتظامات سے الگ قرار دیا جن میں وہ خود ذاتی طور پر شریک رہے تھے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک روز قبل دیے گئے بیانات کا سخت جواب دیا۔ خواجہ آصف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امن کا پیامبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تہران کا دورہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے کیا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اور دفاعی فورسز کے سربراہ نے ایک بڑی جنگ روکنے میں مدد دی اور یمن کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی تھی، اس لیے عالمی سطح پر ان امن کوششوں کا اعتراف کیا جانا چاہଏ۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں یہ گرما گرم بحث مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سیاسی چپقلش کے بعد سامنے آئی۔ خواجہ آصف نے ماضی کے سیاسی اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کے دور کو یاد کیا جس کے ذریعے اپریل 2022 میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ہٹایا گیا تھا اور جو 16 ماہ تک اقتدار میں رہی۔ وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کے اپوزیشن لیڈر بننے کے حالات پر تنقید کرتے ہوئے کسی سیاسی مبینہ ڈیل کا ذکر کیا اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کے ریکارڈ پر بھی سوال اٹھائے۔

خواجہ آصف نے اس موقع پر اپنی سیاسی جماعت کی طرف سے کی جانے والی غلطیوں اور اقتدار میں آنے کے لیے کیے گئے سمجھوتوں کا اعتراف بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو مخلوط حکومت بنانے کے بجائے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا چاہیے تھا تاکہ وہ حکومت سیاسی دباؤ اور بلیک میلنگ کی زد میں نہ آتی۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

عام شہریوں اور ملکی حالات پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ بیانات اس کشمکش کو ظاہر کرتے ہیں جو پاکستان کے سیاسی منظرنامے، حکمرانی، مخلوط حکومتوں اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ خواجہ آصف نے سیاسی حریفوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر تنقید سے گریز کریں اور ان امور کو اندرونی سیاسی تنازعات سے بالا تر رکھا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جب سیاسی شخصیات کو اقتدار میں ان کا حصہ نہیں ملتا تو اکثر اس قسم کی تنقید سامنے آتی ہے۔