اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل ملک کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیراعظم ایک بار پھر اقتدار کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ملک کا سیاسی منظرنامہ گہرے اختلافات کا شکار ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ان کے حامی انہیں "کنگ بیبی" کہتے ہیں جبکہ مخالفین انہیں سکیورٹی کی ناکامیوں اور کرپشن کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، بنیامین نیتنیاہو نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں فلسطینیوں اور شام کے ساتھ ممکنہ امن معاہدوں کے خلاف غصے کو ہوا دے کر اسرائیلی سیاست میں قدم رکھا تھا۔ اسرائیلی سیاسی رہنماؤں نے ان پر اشتعل انگیزی کا الزام عائد کیا جس کی وجہ سے 1995 میں اس وقت کے وزیراعظم یحٰک رابن کا قتل ہوا، جو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کر رہے تھے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، نیتنیاہو نے ایسی ریلیوں کی قیادت کی تھی جن میں شرکاء نے رابن کو نازی ایس ایس یونیفارم میں دکھایا اور بندہ نالی کے نشان والے پوسٹر اٹھائے، جبکہ کچھ لوگوں نے انہیں غدار بھی کہا۔ الجزیرہ کا کہنا ہے کہ لیکود پارٹی کے رہنما اس ذمہ داری سے انکار کرتے ہیں، حالانکہ سابق سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے قتل سے پہلے نیتنیاہو کو خبردار کیا تھا اور ان سے اپنی بیان بازی کو کم کرنے کا کہا تھا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، 1996 میں نیتنیاہو کے پاپولسٹ ہتھکنڈے بیلٹ باکس میں کامیاب رہے، جس سے وہ اسرائیل کے سب سے کم عمر وزیراعظم بن گئے۔ الجزیرہ نوٹ کرتا ہے کہ ان کے طرزِ حکمرانی نے انتہائی دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کو نمایاں کیا جو اب ان کے دائیں بازو کے اتحاد کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ان کے دورِ حکومت میں مذہبی عدالتوں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے، بشمول سول اور کاروباری تنازعات کے، اور ریاستی ادارے مذہبی ایجنڈوں کو ایڈجسٹ کرتے ہیں جبکہ الٹرا آرتھوڈوکس اسکولوں اور اداروں کو ریکارڈ فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، الجزیرہ کا کہنا ہے کہ نیتنیاہو نے اپنی سیاسی نظریاتی سوچ کو قانون کا حصہ بنایا، خاص طور پر ریاست کی شناخت اور اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی حیثیت کے حوالے سے۔ الجزیرہ کے مطابق، 2018 میں کنیست نے نیشن اسٹیٹ بیسک قانون منظور کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل یہودی عوام کی خصوصی ریاست ہے اور غیر قانونی بستیوں کو آگے بڑھانا قومی ترجیح ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کو روکنے کے لیے ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں، لیکن درخواست مسترد کر دی گئی، اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ماہرین اور حقوق کے ادارے اس قانون کو دیگر قوانین کے ساتھ شمار کرتے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان کے مبصرین اور قارئین کے لیے، سیاسی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں، قوم پرست نظریات کو بنیادی قوانین میں ڈھالنے، اور حکمرانی میں مذہبی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے یہ پیش رفت بیرون ملک پیچیدہ قانونی اور سماجی تبدیلیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ جیسا کہ الجزیرہ نے تجزیہ کیا ہے، کسی منقسم رہنما کے طویل مدتی گھریلو ورثے میں اکثر دائیں بازو کی عسکریت پسند اپوزیشن کا مضبوط ہونا اور ریاست کی شناخت میں دیرپا ساختی تبدیلیاں شامل ہوتی ہیں۔