امریکی کانگریس پر کنٹرول حاصل کرنے کی دوڑ اب انتہائی سخت ہوتی جا रही ہے، اور مشی گن کے اہم انتخابی معرکے میں سرکردہ امیدواروں نے اپنے پہلے ہی ٹیلی ویژن مباحثے میں ایک دوسرے پر کڑے الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ الجزیرہ کے مطابق گرینڈ ریپڈز میں ہونے والا ایک گھنٹہ طویل مباحثہ اس سخت مقابلے کی غمازی کرتا ہے جہاں کانگریس کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ڈیموکریٹک امیدوار اور وین کاؤنٹی کے سابق ہیلتھ ڈائریکٹر عبدالسید نے اسٹیج کا استعمال کرتے ہوئے اپنے حریف مائیک روجرز کو عام شہریوں سے کٹے ہوئے ایک دولت مند اشرافیہ کے طور پر پیش کیا اور ان کے پاس یاٹ ہونے کا ذکر کیا۔ دوسری جانب سابق امریکی ایوان نمائندگان کے رکن مائیک روجرز نے عبدالسید پر مبینہ طور پر بیرونی ہمدردیوں اور قومی سلامتی کے حوالے سے الزامات عائد کیے۔
مباحثے کے دوران دونوں امیدوار بار بار ایک دوسرے کی بات کاٹتے رہے اور تند و تلخ جملوں کا تبادلہ کیا۔ الجزیرہ نے بتایا کہ میزبان رک ایل بین کو بعض اوقات نظم و ضبط قائم رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ صحت کی دیکھ بھال کے فنڈز کے دعوؤں اور مارچ میں ایک عبادت گاہ پر ہونے والے حملے جیسے امور پر کشیدگی عروج پر تھی۔
الجزیرہ کے مطابق مشی گن میں پیدا ہونے والے عبدالسید، جو اگر منتخب ہو گئے تو امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن بنیں گے، کو انتخابی مہم کے دوران اسلامو فوبیا پر مبنی بیانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس سے قبل ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ عبدالسید کو انتہا پسند اور دہشت گردوں کا حامی قرار دے چکے ہیں۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق مشی گن میں سینیٹ کی یہ دوڑ امریکی کانگریس میں اقتدار کا توازن طے کرنے میں ایک فیصلہ کن معرکہ سمجھی جاتی ہے۔ 3 نومبر کو شیڈول وسطی مدتی انتخابات کے ساتھ ڈیموکریٹس کا ہدف دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنا ہے، اگرچہ سینیٹ میں کامیابی حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کی 100 میں سے صرف ایک تہائی نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے۔ اس مباحثے نے اس بات کو اجاگر کیا کہ مہم کے آخری ہفتوں میں ذاتی حملے اور شناخت پر مبنی جانچ پڑتال کا عنصر غالب ہے۔
اس کی اہمیت کیا ہے
بڑی عالمی جمہوریتوں میں پیش رفت اور اس نوعیت کے انتخابی معرکے وسیع تر سیاسی تبدیلیوں، پالیسی کی سمتوں اور سفارتی تعلقات کے اشارے کے طور پر بین الاقوامی توجہ مبذول کرتے ہیں جو بین الاقوامی امور اور عالمی برادریوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بیرون ملک جمہوری عمل پر نظر رکھنے والے مبصرین ایسے اہم مقابلوں کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ سیاسی محاذ آرائی اور شناخت کی سیاست جدید طرز حکمرانی کو کیسے تشکیل دے رہی ہے۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ کے مطابق یہ انتخابات 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسطی مدتی انتخابات سے ایک ماہ سے بھی کم وقت کے فاصلے پر ہو رہے ہیں۔

