اسکاٹ لینڈ کی فٹ بال ٹیم نے نیشنز لیگ کے آئندہ اہم مقابلوں کے لیے اپنے 26 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں کچھ اہم نام دوبارہ قومی ٹیم کا حصہ بن گئے ہیں۔ بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، اسکواڈ میں اسکاٹ مکتومنے، کیران ٹیرنے اور چے ایڈمز کی واپسی ہوئی ہے جو اب شمالی مقدونیہ کے خلاف ہوم میچ اور سوئٹزرلینڈ کے خلاف باہر کھیلے جانے والے میچ میں ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔
ہیڈ کوچ سبسٹین پوکোগنولی نے اس بار 28 کھلاڑیوں کے بڑے پول کو کم کر کے 26 رکنی حتمی اسکواڈ کا انتخاب کیا ہے۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، ناپولی کے ستارے اسکاٹ مکتومنے دل کی ایک معمولی سرجری کے باعث ستمبر اور اکتوبر کے میچوں میں شرکت نہیں کر سکے تھے، تاہم صحت یابی کے بعد وہ اب تک سات میچوں میں چار گول اسکور کر چکے ہیں۔ اسی طرح تورینو کے فارورڈ چے ایڈمز بھی پٹھے کی تکلیف کی وجہ سے کچھ عرصہ باہر رہنے کے بعد اسکواڈ میں واپس آئے ہیں، جنہوں نے اس سیزن میں سیری اے کے پانچ میچوں میں دو گول اسکور کیے ہیں۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق اسکاٹ لینڈ اس وقت گروپ بی ون میں تیسرے نمبر پر موجود ہے اور اسے پلے آف میں جگہ بنانے کے لیے کم از کم چار پوائنٹس کی ضرورت ہے۔ سوئٹزرلینڈ اپنے تمام میچ جیت کر گروپ میں سرفہرست ہے جبکہ سلووینیا اسکاٹ لینڈ سے تین پوائنٹس آگے ہے۔ اس مرتبہ اسکواڈ میں رینجرز کے 27 سالہ لیفٹ بیک جیمز پینرس کو پہلی بار قومی ٹیم کے لیے طلب کیا گیا ہے، جبکہ بلیک برن روورز کے مڈفیلڈر کرسٹی منٹگمری بھی اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ دوسری جانب اسکاٹ مککینا اور کینی میک لین انجری کے باعث ٹیم سے باہر ہیں۔ بی بی سی اسپورٹس نے یہ بھی بتایا کہ اگر کپتان اینڈی رابنسن 13 اور 16 نومبر کو ہونے والے دونوں میچوں میں میدان میں اترے تو وہ سر کینی ڈاگلیش کے 102 میچوں کا ریکارڈ توڑ کر سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
بین الاقوامی فٹ بال مقابلوں پر نظر رکھنے والے شائقین کے لیے ٹیموں میں تبدیلیاں اور انجری کے بعد کھلاڑیوں کی واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ اعلیٰ سطح پر کھلاڑیوں کو کس قدر جسمانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قومی ٹیموں کی کامیابی کا دارمدار اکثر کلیدی کھلاڑیوں کی فٹنس اور بروقت دستیابی پر ہوتا ہے، جو کہ عالمی ٹورنامنٹس میں حکمت عملی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

