برطانوی میڈیا کے مطابق مارک اسمتھ کو تقریبا 2 سال گزر چکے ہیں کہ انہوں نے انگلینڈ کی طرف سے رگبی یونین میں فلائی ہاف کے طور پر کوئی میچ شروع کیا ہو، لیکن کلب کی سطح پر ان کی حالیہ شاندار کارکردگی نے انہیں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، 2025 کے سکس نیشنز ٹورنامنٹ کے پہلے ہی میچ میں آئرلینڈ کے خلاف شکست کے بعد یہ 27 سالہ کھلاڑی نمبر 10 کی جرسی کی دوڑ میں فن اسمتھ اور جارج فورڈ سے پیچھے رہ گیا تھا۔

بی بی سی اسپورٹ نے بتایا کہ ہیڈ کوچ اسٹیو بورتھوک نے گزشتہ کچھ عرصے میں مارک اسمتھ کو فلائی ہاف کے بجائے فل بیک، ایک ورسٹائل متبادل کھلاڑی، یا یہاں تک کہ موسم گرما میں فجی کے خلاف میچ میں اسکم ہاف کی ذمہ داریوں کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ تاہم، بی بی سی اسپورٹ کی تفصیلات کے مطابق، اب چونکہ پہلی ترجیح سمجھے جانے والے فلائی ہاف فن اسمتھ پنڈلی کی انجری کا شکار ہو کر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، اس لیے مارک اسمتھ اتوار کو آسٹریلیا کے خلاف میچ میں بطور کھلاڑی میدان میں اترنے کے لیے سب سے بہترین انتخاب کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

پس منظر

بی بی سی اسپورٹ کے مطابق مارک اسمتھ پریمیئر شپ کے ابتدائی 2 میچ نہیں کھیل پائے تھے، لیکن اس کے بعد سے وہ ہارلیکوینز کی حالیہ شاندار کارکردگی کا اہم حصہ رہے ہیں۔ ایکسیٹر کے خلاف کھیلے گئے ایک میچ میں ان کی بہترین کھیل اور میدان میں فیصلے کرنے کی صلاحیت کو سراہا گیا، جہاں ان کی قیادت نے ٹیم کو دوسرے ہندسے کے آغاز میں سات پوائنٹس کے خسارے سے باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دریں اثنا، بی بی سی اسپورٹ نے یہ بھی ذکر کیا کہ لیسٹر کی ٹیم نے سارا سینز کے خلاف پہلے میچ کی شکست کے بعد اب پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے اور ان کے کپتان اولی چیسم بھی پیر کی انجری سے نجات پا کر واپس آ گئے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے وہ کھیلوں کے شائقین جو بین الاقوامی رگبی یونین کو فالو کرتے ہیں، ان کے لیے نومبر کے اہم بین الاقوامی ٹیسٹ میچوں سے پہلے ٹیم کے انتخاب اور حکمت عملی میں تبدیلیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کھیل کی اعلیٰ سطح پر مقابلہ کتنا سخت ہوتا ہے۔ اگرچہ انگلش پریمیئر شپ جیسی ڈومیسٹک لیگز مقامی میدانوں سے دور کھیلی جاتی ہیں، لیکن قومی ٹیم کے کوچز کی جانب سے کی جانے والی حکمت عملی کی تبدیلیاں یہ بتاتی ہیں کہ پروفیشنل ٹیمیں کھلاڑیوں کی فارم، انجریز اور ان کی صلاحیتوں کا کس طرح انتظام کرتی ہیں۔