اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گرج دار آوازوں کے ساتھ 21 توپوں کی سلامی دی گئی جب مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو منگل کے روز دارالحکومت پہنچے، اور اس کے ساتھ ہی ان کے تین روزہ تاریخی دورے کا آغاز ہو گیا۔ جیو نیوز کے مطابق، یہ اعلیٰ سطحی دورہ گیارہ برسوں میں کسی بھی مالدیپی صدر کا پہلا دورہ ہے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، صدر محمد معیزو کے ہمراہ ان کی اہلیہ بیگم ساجدہ محمد اور کابینہ کے وزرا اور اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک وفد بھی موجود ہے، جو وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان آیا ہے۔
جیو نیوز نے بتایا کہ مہمان صدر کا وزیراعظم ہاؤس میں باضابطہ استقبال کیا جائے گا۔ 20 سے 22 اکتوبر تک جاری رہنے والے اس قیام کے دوران، صدر محمد معیزو صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جو ان کے اعزاز میں ایک سرکاری ضیافت کا اہتمام بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ، وہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ون آن ون اور وفد کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے جیو نیوز نے بتایا کہ دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے اور تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، بحری سیکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی سطح پر رابطوں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تعاون کے امکانات پر غور کریں گے۔
جیو نیوز کے مطابق، دونوں ممالک کے کاروباری طبقات کو ملانے اور تجارت و سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لیے پاک مالدیپ بزنس فورم کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جس میں کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔
پس منظر
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 1966 میں قائم ہونے والے سفارتی تعلقات کی 60 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ ادارے نے بتایا کہ دونوں ممالک مشترکہ عقیدے، باہمی احترام اور علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر قریبی تعاون پر مبنی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں۔
اس دورے کی اہمیت
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ دورہ دونوں ممالک کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے عام شہریوں اور کاروباری برادری کے لیے متوقع معاہدے اور پاک مالدیپ بزنس فورم تجارت، سیاحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں معاشی تعلقات اور تعاون کو مزید بڑھانے کے نئے دروازے کھولتے ہیں۔

