ایک طویل اور شاندار عالمی سفر پر نکلا ہوا پرتعیش بحری جہاز اچانک رک گیا ہے اور ایندھن کے اخراجات میں بے پناہ اضافے کے باعث اس کا سفر معطل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں اس میں سوار مسافر کمبوڈیا میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، 'ولا وی اوڈیسی' نامی اس بحری جہاز کو چلانے والی امریکی کمپنی نے منگل کے روز اس معطلی کا اعلان کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے سفر کو جاری رکھنا مالی طور پر ممکن نہیں رہا۔

بی بی سی کے مطابق، رواں سال ایران میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے دنیا بھر میں ایندھن کے دام تیزی سے بڑھے ہیں۔ جہاز کے منتظمین نے بی بی سی کو بتایا کہ ایشیا کے بعض حصوں میں فی کیبن ماہانہ ایندھن کا خرچ 1800 ڈالر سے چھلانگ لگا کر 8000 ڈالر (تقریباً 6000 برطانوی پاؤنڈ) تک جا پہنچا ہے۔ بلومبرگ نے جہاز کے بانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ جب مسافروں کو کمبوڈیا میں اترنے کی ہدایت کی گئی تو اس وقت جہاز پر لگ بھگ 200 مسافر سوار تھے۔

امریکہ میں قائم اس کمپنی نے بیان دیا ہے کہ وہ مسافروں کو جہاز سے اتارنے اور ان کے عارضی قیام کے انتظامات کے لیے ان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ اس سخت فیصلے سے پہلے کمپنی کا کہنا تھا کہ اس نے ایندھن کی کھپت گھٹانے کے لیے کئی بڑے اقدامات کیے تھے، جن میں جہاز کی رفتار سست کرنا اور بندرگاہوں پر زیادہ وقت گزارنا شامل تھا۔ تاہم، کمپنی نے واضح کیا کہ یہ کوششیں ایندھن کے اخراجات میں ہونے والے شدید اضافے کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئیں اور بوجھ کا تمامتر حصہ مسافروں پر ڈالنا کوئی قابلِ عمل حل نہیں تھا۔

پس منظر

'ولا وی اوڈیسی' نامی اس جہاز نے اکتوبر 2024 میں بیلفاست سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، جو ساڑھے تین سال پر محیط ایک مسلسل عالمی سفر ہونا تھا اور اس کی ویب سائٹ کے مطابق اسے تقریباً 150 ممالک کا چکر لگانا تھا۔ بی بی سی نے بتایا کہ اس بحری جہاز کے اصل روانگی کے وقت بھی تاخیر ہوئی تھی کیونکہ جہاز کی مرمت کا کام چل رہا تھا، جس کی وجہ سے مسافر مہینوں تک بیلفاست میں پھنسے رہے اور کمپنی کو لاکھوں پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس جہاز میں مستقل رہائش کے لیے کیبن کی قیمتیں 120,000 ڈالر سے 440,000 ڈالر تک ہیں، جبکہ کیبن کرائے پر بھی دستیاب ہیں جن کا ماہانہ کرایہ 3500 ڈالر سے شروع ہوتا ہے۔ تقریباً 200 میٹر لمبے اس جہاز پر کئی بار اور ریستوران، ایک پول ڈیک اور پیکل بال کورٹ بھی موجود ہے۔

اس معاملے کی اہمیت کیا ہے؟

عام قاری کے لیے یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کیسے دنیا کے ایک کونے میں ہونے والی جغرافیائی سیاسی کشمکش اور عالمی تبدیلیاں بین الاقوامی تجارت، نقل و حمل اور سیاحت کو فوراً متاثر کرتی ہیں۔ جب توانائی کی منڈیوں میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے، تو اس کے اثرات روایتی صنعتوں سے بہت آگے تک پھیل جاتے ہیں اور عالمی سفر جیسے مخصوص شعبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ طویل المدتی بین الاقوامی منصوبے معاشی جھٹکوں کے سامنے کتنے غیر محفوظ ہوتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

بی بی سی کے مطابق، کمپنی اگلے 60 دن اپنی تنظیم نو اور سرمایہ کاری بحال کرنے کے عمل پر صرف کرے گی، البتہ منتظمین نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اس کے حتمی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ یقین سے نہیں کہا جا सकता۔