لاطینی امریکہ کے سب سے بڑے ملک میں سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب رقم ہو گیا ہے، جہاں 80 سالہ صدر لوئز انیسیو لولا دا سلوا نے غیر معمولی سیاسی کم بیک کرتے ہوئے صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، پہلے مرحلے میں غیر متوقع شکست کے بعد لولا دا سلوا نے سخت مقابلے کے بعد دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو کو شکست دی ہے۔
اتوار کے روز برازیل کے سپیریئر الیکٹرورل کورٹ نے اتوار کی رات 9 بجے کے قریب نتائج کا اعلان کرتے ہوئے لولا دا سلوا کی کامیابی پر مہر ثبت کر دی۔ الجزیرہ کے مطابق، 6 کروڑ 4 لاکھ سے زائد کاسٹ ہونے والے ووٹوں میں سے لولا نے 51 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ دوسری طرف سینیٹر بولسونارو نے 48 فیصد یعنی 5 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ووٹ لیے، اور حتمی نتائج آنے تک دونوں امیدواروں کے درمیان 4 ملین سے زائد ووٹوں کا فرق رہا۔
الجزیرہ نے بتایا کہ لولا دا سلوا جدید برازیل کی تاریخ کے پہلے ایسے سیاستدان بن گئے ہیں جو صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں ہارنے کے بعد رن آف میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ لولا کی ورکرز پارٹی کے سربراہ ایڈنہو سلوا نے سوشل میڈیا پر اس کامیابی کو جمہوریت کے لیے ایک تاریخی موڑ قرار دیا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، اتوار کے روز پولنگ کے عمل کے دوران ووٹرز کو روکنے اور ٹرانسپورٹ معطل کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ لولا کے حاتمیوں نے الزام عائد کیا کہ بولسونارو کے حامیوں نے مزدور طبقے کے ووٹرز کو کم کرنے کے لیے بسوں کی دستیابی محدود کی، جبکہ جنوبی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث بولسونارو کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی پولنگ متاثر ہوئی۔ دونوں مہمات نے سپریم کورٹ میں ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی، جس کے نتیجے میں پولنگ معمول سے دو گھنٹے تاخیر سے شام 7 بجے تک جاری رہی۔
الجزیرہ نے بتایا کہ 4 اکتوبر کے پہلے مرحلے میں بولسونارو سے پیچھے رہنے کے بعد لولا نے انڈر ڈاگ کی حیثیت سے رن آف میں قدم رکھا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، اس فتح نے خطے کے دائیں بازو کو ایک بڑا دھچکا دیا ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں پیرو، کولمبیا، ارجنٹینا، بولیویا اور ایکواڈور جیسے ممالک میں موجودہ حکومت مخالف لہر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے دائیں بازو کے رہنما صدارتی دوڑ جیت چکے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
بین الاقوامی جمہوری عمل اور قیادت کی تبدیلیوں کے تناظر میں، لاطینی امریکہ کے اس بڑے ملک کے انتخابی نتائج عالمی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ بڑے جمہوری انتخابات خارجہ پالیسی، معاشی صف بندی اور کثیر جہتی تعلقات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ خارجہ امور کے مبصرین اور عالمی خبروں کے قارئین بین الاقوامی تعاون اور علاقائی استحکام کو متاثر کرنے والے ان جیو پলিٹیکل رجحانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ کے مطابق، 80 سالہ لولا دا سلوا 5 جنوری 2027 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس طرح وہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے بعد حلف اٹھانے والے سب سے معمر برازیلی صدر کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیں گے۔

