عمان میں پارلیمنٹ کے نئے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی شہر کرک میں ایک چرچ پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے سے مملکت کے قدم نہیں ڈگمگائیں گے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بادشاہ نے قانون سازوں سے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے مکارانہ ہاتھ نے ریاست کے عزم کا امتحان لینے کی کوشش کی ہے، اور واضح کیا کہ حملہ آور ہم میں سے نہیں ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، یہ حملہ تقریباً دو ہفتے قبل پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ بادشاہ نے پارلیمنٹ میں موجود متاثرین کے لواحقین کی موجودگی میں اراکین سے متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی درخواست کی۔ عمان سے الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شاہ عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ قوم ملکی اتحاد، عوامی بیداری، فوج اور سیکیورٹی اداروں کے بل بوتے پر انتہا پسندوں کے خلاف آہنی ہاتھ سے نمٹے گی۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، شاہ عبداللہ نے اپنے پارلیمنٹ سے خطاب میں خطے کے وسیع تر کشیدہ حالات کا بھی ذکر کیا۔ الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ بادشاہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم مشرق وسطیٰ کے مستقبل اور سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اور اس ضمن میں انہوں نے غزہ کے انسانی المیے اور مغربی کنارے اور بیت المقدس میں لگاتار حملوں کا حوالہ دیا۔ اس کے علاوہ، الجزیرہ کا کہنا ہے کہ بادشاہ نے اردن کے پانی کے محدود ذخائر کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مملکت اسرائیل کے بعض منصوبوں کے خدشات کے درمیان اپنے عوام کی پیاس کو کسی بھی فریق کے یرغمال نہیں بننے دے گی۔
الجزیرہ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اردن امریکہ کا قریبی اتحادی ہے جس نے 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے، اور اس کے لاکھوں شہری فلسطینی نژاد ہیں۔ مزید برآں، الجزیرہ کے مطابق، بادشاہ نے اراکین پارلیمنٹ کو ملکی طرزِ حکمرانی کے حوالے سے ہدایات دیں، قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی تلقین کی، حکومت سے زندگی کی بہتری کا مطالبہ کیا، اور اس اصول کے تحت عہدوں کے غلط استعمال پر خبردار کیا کہ قانون کسی نام یا اثر و رسوخ کو نہیں جانتا۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
بین الاقوامی مبصرین اور عالمی امور کے قارئین کے لیے عمان کی یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں اندرونی سیکیورٹی کے چیلنجز اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے سنگم کو ظاہر کرتی ہے۔ اردن کی قیادت کا سرکاری ردعمل اس نازک توازن کو اجاگر کرتا ہے جو گھریلو استحکام کو برقرار رکھنے، علاقائی سفارتی معاہدوں کو سنبھالنے اور پانی جیسے اہم وسائل پر عوامی خدشات کو دور کرنے کے لیے درکار ہے۔

