الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کی کیشا لانس باٹمز نے امریکہ کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے جارجیا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ ان کی یہ تاریخی فتح ایک ایسے سخت اور کڑے مقابلے کے بعد سامنے آئی ہے جو ان کے ارب پتی ریپبلکن حریف رک جیکسن کے خلاف لڑا گیا۔ رک جیکسن نے موجودہ گورنر برائن کیمپ کے جانشین کے طور پر منتخب ہونے کے لیے اپنی ذاتی دولت میں سے 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم اس انتخابی مہم میں جھونک دی تھی۔

الجزیرہ کے مطابق، سابق صدر جو بائیڈن کی مشیر اور اٹلانٹا کی سابق میئر کیشا لانس باٹمز نے یہ کامیابی ریاست کے سیاہ فام ووٹرز کی مضبوط حمایت سے حاصل کی، جنہوں نے ارلی ووٹنگ کے دوران بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اٹلانٹا کے میئر کے طور پر اپنے دورِ حکومت پر ہونے والی ریپبلکن تنقید کا بھرپور جواب دیا۔ ایسوسی ایটেড پریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ناقدین نے اٹلانٹا کو ایک خطرناک اور خراب جگہ کے طور پر پیش کرنے کے لیے ہمیشہ پرانا ہتھکنڈہ استعمال کیا۔

پس منظر

الجزیرہ نے بتایا کہ ریپبلکن گورنر برائن کیمپ مدت پوری ہونے کے بعد جنوری میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ آئینی مدت کی حد کی وجہ سے دوبارہ انتخاب نہیں لڑ سکتے تھے۔ باٹمز کی یہ کامیاب دوڑ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ جارجیا کے ڈیموکریٹس نے لگاتار تیسرے انتخابی دور میں کسی سیاہ فام خاتون کو گورنر کے لیے نامزد کیا ہے، اس سے قبل 2018 اور 2022 میں اسٹیسی ایبرمز اس منصب کے لیے میدان میں اتری تھیں.

اس فتح کی اہمیت

الجزیرہ اور عالمی جمہوری عمل کا جائزہ لینے والے اداروں کے مطابق، انتخابی سنگ میل اور ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اقلیتی ووٹر گروپس کس طرح اہم ترین قانون سازی اور انتظامی عہدوں کے نتائج کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔