کراچی میں ایک تیرہ سالہ بچی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ڈارک ویب سے جڑے ایک ایسے مشکوک نیٹ ورک کے چنگل سے بازیاب کرا لیا، جو مبینہ طور پر اسے خود کو نقصان پہنچانے کی ہدایات دے رہا تھا۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس نیٹ ورک نے پہلے بچی کو ایک بلی کو زہر دینے کا حکم دیا تھا اور پھر اسے خود کو شدید نقصان پہنچانے کی ہدایات دی جا رہی تھیں۔
جیو نیوز کے مطابق، ایک بین الاقوامی ایجنسی نے مشکوک آن لائن سرگرمیوں کی اطلاع دیتے ہوئے پاکستانی حکام کو انٹرنیٹ پروٹوکول (آئی پی) ایڈریسز فراہم کیے تھے۔ اس بین الاقوامی ایجنسی نے پاکستان سمیت 13 ممالک میں استعمال ہونے والے آئی پی ایڈریسز کی نشاندہی کی تھی۔ NCCIA کی کراچی ٹیم نے پاکستانی آئی پی ایڈریس کی پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ اس سے وابستہ فرد کوئی مجرم نہیں بلکہ خود ایک متاثرہ شخص ہے، جس کے ذریعے تفتیش آگے بڑھتے ہوئے اس نوعمر بچی تک پہنچی۔
رپورٹ کے مطابق، NCCIA کے حکام کا کہنا ہے کہ بچی کے والدین کو اس معاملے کا اس وقت تک کوئی علم نہیں تھا جب تک تفتیش کاروں نے خود ان سے رابطہ نہیں کیا۔ والدین نے بتایا کہ پچھلے چھ مہینے سے بچی کے رویے میں تبدیلیاں آ رہی تھیں لیکن انہوں نے ان تبدیلیوں کو اس کی آن لائن سرگرمیوں کے ساتھ نہیں جوڑا تھا۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق، ڈارک ویب انٹرنیٹ کا وہ چھپا ہوا حصہ ہے جو گوگل یا بنگ جیسے روایتی سرچ انجنوں کے ذریعے ظاہر نہیں ہوتا، اور اس تک رسائی کے لیے ٹور براؤزر جیسے خصوصی سافٹ ویئر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ صارفین کی شناخت خفیہ رکھی جا سکے۔ اگرچہ اس کا استعمال نجی مواصلات اور سنسرشپ سے بچنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے، لیکن یہ منشیات کی اسمگلنگ، ہتھیاروں کی فروخت اور سائبر کرائم جیسے غیر قانونی کاموں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہ ڈیپ ویب سے مختلف ہے، جس میں نجی ڈیٹا بیس اور وہ ای میلز شامل ہوتے ہیں جو سرچ انجنوں پر ظاہر نہیں ہوتے۔
یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟
جیو نیوز کے مطابق، یہ واقعہ بچوں کو درپیش آن لائن خطرات اور پاکستان میں کم عمر بچوں کو نشانہ بنانے والے ڈارک ویب نیٹ ورکس کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ NCCIA نے بتایا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ملک میں کسی اور بچے کو بھی ایسی ہی آن لائن سرگرمیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے یا نہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
رپورٹ کے مطابق، NCCIA کے تفتیش کار ان اکاؤنٹس کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں جن کے ذریعے بچی سے رابطہ کیا گیا تھا، تاکہ اس نیٹ ورک کو چلانے والوں کی شناخت کی جا سکے اور یہ دیکھا جا سکے کہ آیا دیگر بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ تحقیقات تاحال جاری ہیں اور اس سلسلے میں کسی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
