کیا پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی اب پیدل چلنے والوں کے لیے بغیر ٹریفک کی سڑکیں نظر آئیں گی؟
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں کچھ سڑکوں کو مکمل طور پر پیدل چلنے والوں کے لیے مختص کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ فیصلہ برطانوی دارالحکومت لندن میں ہونے والی شہری تبدیلیوں سے متاثر ہو کر کیا گیا ہے، جہاں حال ہی میں آکسفورڈ اسٹریٹ کے ایک حصے کو گاڑیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
اہم حقائق
جیو نیوز کے مطابق، لندن کے میئر نے آکسفورڈ اسٹریٹ کا ایک کلومیٹر طویل حصہ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کر دیا ہے، جس کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ اس مشہور خریداری مرکز کے ایک حصے کو مستقل طور پر ٹریفک سے پاک کر دیا گیا ہے، جہاں پہلے بسیں اور ٹیکسیاں چلا کرتی تھیں۔
اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں آکسفورڈ اسٹریٹ کے تقریباً آدھے حصے کو پیدل چلنے والوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، جیو نیوز کا کہنا ہے کہ لندن میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس سڑک کو بند کرنے کے معاملے میں کوئی قانونی رکاوٹیں کھڑی نہیں کی گئیں، جو اس قسم کے ترقیاتی کاموں میں باہمی تعاون کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
بین الاقوامی تجربے سے تحریک لیتے ہوئے، میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میں بھی منتخب سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کر کے پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
پس منظر
بڑے بین الاقوامی شہروں میں شہری منصوبہ بندی کی تبدیلیاں اکثر دنیا بھر کے بلدیاتی اداروں کی حکمت عملی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ لندن کی مثال لیں تو وہاں آکسفورڈ اسٹریٹ کے ایک حصے کی مستقل بندش نے تجارتی مراکز میں ٹریفک اور پیدل چلنے کی جگہوں کے انتظام کا انداز ہی بدل دیا ہے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان کے عام شہریوں اور مکینوں کے لیے یہ تجویز اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک کے اس سب سے بڑے شہر میں عوامی مقامات اور تجارتی علاقوں کے انتظام کا انداز تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس نوعیت کے شہری اقدامات، اگر مقامی حالات کے مطابق ڈھال لیے جائیں، تو مخصوص علاقوں میں گاڑیوں سے پاک زونز بنا کر روزمرہ کی نقل و حرکت اور خریداری کے تجربے کو نیا رخ دے سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا
جیو نیوز کے مطابق، لندن میں آکسفورڈ اسٹریٹ کے باقی حصوں تک ٹریفک کی پابندیاں بڑھانے کا انحصار پہلے مرحلے کی کامیابی پر ہے۔ البتہ، دستیاب معلومات میں کراچی میں اس منصوبے کے نفاذ کے لیے کسی خاص وقت یا سڑکوں کے حتمی مقامات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

