گولف کی دنیا میں ایک بڑا نام رکھنے والے اور دو مرتبہ کے میجر چیمپئن جون رام کا اتنے بڑے اور منافع بخش سرکٹ سے الگ ہو جانا کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں۔ بی بی سی اسپورٹس اور ای ایس پی این کی رپورٹ کے مطابق، ہسپروی گولفر جون رام نے لیو گولف چھوڑنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ اس باغی سرکٹ کی نئی سمت اور 'لیو 2.0' کے تحت ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے اپریل میں 5 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے بعد اس سرکٹ سے ہاتھ کھینچ لیا تھا، جس کے نتیجے میں ستمبر میں لیو نے امریکہ میں دیوالیہ پن سے تحفظ کے لیے درخواست دائر کی۔ بی بی سی اسپورٹس نے بتایا کہ اس سرکٹ نے 'لیو 2.0' کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے ممکنہ طور پر 300 ملین ڈالر کی فنانسنگ حاصل کی، لیکن جون رام نے اکتوبر میں اس سلسلے سے علیحدگی کا معاہدہ طے کر لیا۔ ای ایس پی این کے مطابق، جب جون رام نے یہ سرکٹ چھوڑا تو ان کے معاہدے کے بقایا جات کی مد میں انہیں تقریباً 100 ملین ڈالر ملنے باقی تھے۔

بی بی سی اسپورٹس سے بات کرتے ہوئے 31 سالہ جون رام کا کہنا تھا، "As much as I liked the project and the idea on, let's say, LIV 1.0, I didn't feel thrilled with the changes they were doing to 2.0 and I just wasn't willing to follow that path," انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت حالات میں بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال تھی اور یہ سرکٹ ٹیم گولف سے ہٹ کر ایک عام ٹورنامنٹ کی طرف جاتا دکھائی دے رہا تھا۔

پس منظر

بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، جون رام نے دسمبر 2023 میں مبینہ طور پر 222 ملین پاؤنڈ کے معاہدے کے تحت پی جی اے ٹور چھوڑ کر لیو گولف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ لیو سے ان کے اخراج کے بعد، امریکہ میں قائم پی جی اے ٹور نے 2 فروری کو اپنے واپس آنے والے اراکین کا پروگرام بند کر دیا، اگرچہ بروک کوپکا جیسے دیگر کھلاڑی قوانین میں تبدیلیوں اور 5 ملین ڈالر کے خیراتی عطیے سمیت دیگر سزاؤں کے بعد واپس آ چکے ہیں۔ جون رام نے اس بات کا ذکر کیا کہ اگرچہ بروک کوپکا مخصوص حالات کے تحت واپس آنے میں کامیاب رہے، لیکن وہ پی جی اے ٹور میں اپنی واپسی کے امکانات کے بارے میں تاحال غیر یقینی کا شکار ہیں۔

مئی میں، جون رام نے ڈی پی ورلڈ ٹور کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا تاکہ یورپی سرکٹ کی رکنیت برقرار رہے اور وہ آئندہ کے مقابلوں کے لیے اہل رہیں۔ بی بی سی اسپورٹس کی تف تفصیلات کے مطابق، جہاں پی جی اے ٹور کے گولفرز پر ایک سال کے لیے خودکار پابندی لگ جاتی ہے، وہیں ڈی پی ورلڈ ٹور ایک ایسا راستہ فراہم کرتا ہے جہاں سرفہرست 10 کھلاڑیوں کو پی جی اے ٹور کی رکنیت مل جاتی ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین اور مبصرین کے لیے، اعلیٰ سطح کا پروفیشنل گولف اب بھی بڑی مالیاتی اور ساختاتی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے کیونکہ روایتی سرکٹس اور نئی لیگز بدلتی ہوئی وفاداریوں، معاہدوں اور اہلیت کے اصولوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی گولف سرکٹس کی جاری ازسرنو تشکیل اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح مالی اعانت اور اسٹریٹجک تبدیلیاں اعلیٰ ترین سطح پر پروفیشنل کھیلوں کے منظر نامے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔