اسرائیل میں ایک انتہائی اہم عام انتخابات کا مرحلہ قریب آ گیا ہے جسے تاریخ کے سب سے اہم انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکمران اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلے کی وجہ سے پارلیمنٹ کا حتمی نقشہ انتہائی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بیشتر رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے دائیں بازو اور مذہبی اتحادی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔
الجزیرہ نے بتایا کہ زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں نے اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے سے انکار کر دیا ہے، جس سے اپوزیشن کے لیے حکومت سازی کا راستہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ جائزوں کے نتائج درست ثابت ہوئے تو سینٹرل رائٹ سے تعلق رکھنے والے سابق فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) گیڈی ایزنکوٹ کی قیادت میں ایک نئی حکومت سامنے آ سکتی ہے۔
پس منظر
الجزیرہ نے ذکر کیا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو گزشتہ 30 سالوں میں سے تقریبا 2 دہائیوں تک اقتدار میں رہے ہیں، جن میں گزشتہ 4 سالوں کی وہ مدت بھی شامل ہے جس میں انہوں نے ایک انتہائی دائیں بازو کی حکومت کی قیادت کی۔ رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ نیتن یاہو کے دورِ اقتدار میں معاشرتی تقسیم میں اضافہ ہوا اور اکتوبر 7 کے حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی معاشرے میں محاصرے کی نفسیات مزید گہری ہو گئی ہے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان سے بین الاقوامی حالات کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے اہم عالمی دارالحکومتوں میں قیادت کی تبدیلی سفارتی اور جغرافیائی سیاسی اہمیت رکھتی ہے، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں علاقائی استحکام کے حوالے سے۔ اگرچہ الجزیرہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل میں حکومت کی تبدیلی سے جاری قبضہ ختم نہیں ہوگا، لیکن اس سے نئی قیادت کے آنے پر دائیں بازو کے عناصر پر لگام کسی جا سکتی ہے اور پورے خطے میں تناؤ میں کمی آ سکتی ہے۔

