بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی ایک ہونہار فارغ التحصیل طالبہ کی دردناک موت نے پورے دارالحکومت کو سوگوار کر دیا۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جب اس بدنصیب طالبہ کو یہ ہولناک حقیقت معلوم ہوئی کہ جس امریکی ویزا اور سفری دستاویزات کے لیے اس نے لاکھوں روپے ادا کیے تھے، وہ سراسر جعلی ہیں تو اس نے اپنی زندگی ہی ختم کر لی۔ اس مبینہ فراڈ اور خودکشی کے مرکزی ملزم محمد نعمان کو پیر کے روز اسلام آباد کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ زنیرا ظفر نے ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
یہ دلخراش واقعہ اس وقت سامنے آیا جب جیو نیوز کے مطابق رمنا پولیس اسٹیشن کی حدود میں جی-10 کے قریب ایک سڑک کے کنارے سے طالبہ کی لاش برآمد ہوئی۔ عدالت میں تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ دستیاب شواہد اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ملزم کا کردار واضح کرنے اور اس سے منسلک اشیاء کی تصدیق کے لیے مزید گہرائی سے تفتیش ناگزیر ہے۔
اہم حقائق
- جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ شواہد کی جانچ پڑتال اور ملزم سے تفتیش کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
- جیو نیوز کے مطابق، پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم آن لائن فراڈ اور خواتین کو بلیک میل کرنے میں مبینہ طور پر ملوث رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم اس سے قبل کوئٹہ میں انسداد بدعنوانی کے ادارے اور اسلام آباد کی ایک کمپنی میں کام کر چکا ہے اور اسے معطل کیا گیا تھا۔
- جیو نیوز کے مطابق، مقتولہ کے والد محمد اعجاز کی مدحت پر تھانہ رمنا میں 10 اکتوبر کو درج ہونے والی ایف آئی آر میں ملزم نعمان اور عائزہ نامی خاتون کو بیٹی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
- جیو نیوز کے مطابق، مدعی مقدمہ کا الزام ہے کہ ملزم نے چھ سات ماہ قبل بلیو ایریا کے قریب خود کو ایک با اثر اعلیٰ عہدیدار ظاہر کیا اور امریکی مطالعہ ویزا کے لیے کل 93 لاکھ روپے طے ہوئے۔
- ایف آئی آر کے حوالے سے جیو نیوز نے بتایا کہ خاندان نے 21 لاکھ روپے نقد اور بعد میں 29 لاکھ روپے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منتقل کیے، جس کے بعد ملزم نے جعلی سفری دستاویزات اور 20 ہزار ڈالر کی جعلی بینک رسید تھما کر رابطہ بند کر دیا۔
پس منظر
جیو نیوز کی تفصیلات کے مطابق، مقتولہ کی ملاقات دارالحکومت کے بلیو ایریا کے قریب مرکزی ملزم سے ہوئی تھی جس نے خود کو با اثر اعلیٰ افسر ظاہر کر کے بیرون ملک تعلیم کے حصول کا جھانسہ دیا۔ لاکھوں روپے کی نقد اور بینک منتقلی کے ذریعے رقوم وصول کرنے کے بعد ملزم نے جو کاغذات فراہم کیے وہ مکمل طور پر جعلی نکلے۔ جب اس فریب کاری پر بازپرس کی گئی تو ملزم نے مبینہ طور پر فون اٹھانا چھوڑ دیا جبکہ اس کی ساتھی عائزہ نے مزید رقوم کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا، جس سے نوجوان گریجویٹ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی۔
اس واقعے کی اہمیت کیوں ہے
یہ المناک واقعہ ان سنگین خطرات کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے جن کا سامنا غیر مجاز ایجنٹوں اور بیرون ملک ملازمت یا تعلیم کے نام پر جعلی اسکیموں کا شکار ہونے والے افراد کو کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بین الاقوامی مواقع کی تلاش میں رہنے والے خاندانوں اور طلباء کے لیے یہ کیس مالی استحصال اور شدید نفسیاتی دباؤ سے بچنے کے لیے سخت جانچ پڑتال اور ادارہ جاتی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
جیو نیوز کے مطابق، عدالت نے شواہد کی تصدیق، متعلقہ اشیاء کی جانچ اور فراڈ و بلیک میلنگ کے الزامات کی مکمل تحقیقات کے لیے ملزم کو پانچ دن کے لیے پولیس حتحویل میں دے دیا ہے۔

