لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے آہنی دروازوں کے پیچھے اس وقت ہلچل مچ گئی جب جیل میں قید بانی پاکستان تحریک انصاف کی ہمیشرہ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق نوری نیازی کو دل کی تکلیف محسوس ہونے پر فوری طور پر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا۔
ان کے وکیل رانا مدثر عمر نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کارڈیالوجی کے شعبے میں بانی پی ٹی آئی کی قید ہمیشرہ کی ابتدائی طبی جانچ کی جا رہی ہے۔
جیو نیوز کے مطابق نوری نیازی اور ان کی دوسری ہمیشرہ عظمیٰ خان کو 21 ستمبر کو لاہور سے گرفتاری کے بعد سے مینٹیننس آف پبلک آرڈر یعنی ایم پی او آرڈیننس 1960ء کے سیکشن 3 کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب پولیس نے ایک روز قبل ان کی تیسری ہمیشرہ علیمہ خان کو بھی اسی آرڈیننس کے تحت لاہور سے حراست میں لے لیا تھا۔
پس منظر
جیو نیوز کی اطلاعات کے مطابق یہ گرفتاریاں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ایک متوقع ملک گیر احتجاج اور لانگ مارچ سے پہلے عمل میں آئی تھیں، جس کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور آئین کی بالادستی کا مطالبہ کرنا تھا۔ جیو نیوز نے مزید بتایا کہ پنجاب کے سیکرٹری داخلہ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ پنجاب حکومت نے حال ہی میں تینوں ہمیشرہ جات کی نظربندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے علیمہ خان کے صاحبزادے شہرز خان کی جانب سے نظربندی کے خلاف دائر کردہ درخواست سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد نمٹا دی تھی۔
معاملہ کیوں اہم ہے
ایم پی او کے ضوابط کے تحت کسی نمایاں شخصیت کی ہسپتال منتقلی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پنجاب میں قانونی حراستوں، سیاسی احتجاج اور قیدیوں کی صحت کے امور کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ عام شہریوں اور مبصرین کے لیے یہ جاری قانونی چیلنجز اور طویل نظربندیاں اس گہرے سیاسی تناؤ کو ظاہر کرتی ہیں جو پی ٹی آئی قیادت اور ان کے اہل خانہ کے گرد گھوم رہا ہے، جبکہ عدالتوں میں درخواستوں اور سرکاری احکامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

