اڈیالہ جیل کی بھاری سلاخوں کے پیچھے قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت تسلی بخش ہے اور وہ باہر کی دنیا میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے پوری طرح باخبر ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی کی جسمانی صحت اچھی ہے اور وہ جیل کی چار دیواری کے اندر رہتے ہوئے بھی ملک کے سیاسی منظر نامے بالخصوص خیبر پختونخوا میں نافذ ہونے والے گورنر راج جیسے اہم فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

پیر کے روز اپنے وکیل سے طویل عرصے بعد ہونے والی اس ملاقات میں اگرچہ گفتگو کا محور قانونی امور تھے، لیکن جیو نیوز کے مطابق سابق وزیر اعظم وفاقی حکومت کے ہنگامی اقدامات اور ملک بھر میں رونما ہونے والی آئینی و سیاسی تبدیلیوں سے پہلے ہی آگاہ تھے۔

جہاں ایک طرف ان کی اپنی صحت تسلی بخش بتائی گئی ہے، وہیں دوسری طرف عمران خان کی سب سے بڑی پریشانی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت ہے جو کہ آنکھ کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے ہدایت کی ہے کہ ان کے علاج اور ریلیف کے لیے قانون کے مطابق تمام متعلقہ عدالتوں اور فورمز سے رجوع کیا جائے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق جیل میں یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔ ملاقات پر عائد پابندیوں کی وجہ سے گفتگو کا دائرہ کار صرف قانونی امور تک محدود رہا، اگرچہ خطے میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

یہ اہم کیوں ہے

پاکستان کے عام شہریوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے یہ تمام پیشرفت وفاقی حکومت اور اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے درمیان جاری کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور جیل کے اندر ہونے والی ان ملاقاتوں سے یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ صوبے میں پارٹی کی آئندہ کی سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی اور قانونی جنگیں قومی سیاست کو کس سمت لے کر جائیں گی۔