جب تہران میں خطے کے امن کے لیے اعلیٰ سطحی سفارتی کوششیں جاری تھیں، اسی دوران عرب امواج میں جنگ کے بادل ایک بار پھر گہرے ہو گئے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے مجموعی طور پر چھ حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کشیدگی کم کرنے کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری تھا۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں بتایا کہ ریاض، نجران، دمام اور دیگر علاقوں میں ہونے والے ان حملوں میں ڈرون اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ ان کے دعوے کے مطابق راس تنورا اور رابغ کی آئل ریفائنریز، ابقیق میں آرامکو کی تنصیب، ریاض کا شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دمام کا شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ایک فوجی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، الجزیرہ نے واضح کیا ہے کہ حوثی گروپ کے ان دعوؤں کی کوئی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب، سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت کی طرف فائر کیے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے ناکام بناتے ہوئے تباہ کر دیا۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ایک سعودی شہری زخمی ہو گیا۔
پس منظر
یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں بڑھی ہے جب رواں ہفتے تہران میں سعودی اور ایرانی اعلیٰ حکام کے درمیان اہم ملاقات ہوئی تھی۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، ایران کے سیکیورٹی سربراہ محسن رضائی کی میزبانی میں ہونے والے ان مذاکرات میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔ ملاقات میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالین نے بھی شرکت کی، جہاں خطے کے امن اور سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے کشیدگی سے بچنے کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تھا، تاہم حوثی فورسز کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان کے نقطہ نظر سے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات، معاشی روابط اور لاکھوں پاکستانیوں کا وہاں مقیم ہونا اس خطے کی اہمیت کو دو آتشہ کرتا ہے۔ کثیر جہتی سفارتی کوششوں کے باوجود عسکری کشیدگی کا جاری رہنا خطے کی نازک سیکیورٹی صورتحال اور اعلیٰ سطحی بات چیت کو زمینی حقائق میں ڈھالنے کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

