دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں معاشی تبدیلی کا ایک ایسا باب رقم ہوا ہے جس نے کروڑوں زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا ہے کہ 2011 سے 2023 کے دوران بھارت میں انتہائی غربت کا تناسب 27.1 فیصد سے کم ہو کر صرف 2.6 فیصد پر آ گیا۔ بارہ سال کے اس عرصے میں تقریباً 50 کروڑ افراد کو غربت کے دلدل سے نکالا گیا۔
عالمی بینک کے مطابق انتہائی غربت سے مراد وہ کم سے کم رقم ہے جو خوراک، پانی، سر چھپانے کی جگہ اور لباس جیسی بنیادی ضروریات کے لیے درکار ہوتی ہے، جس کی حد 3 ڈالر یومیہ مقرر کی گئی ہے۔ اس پیمانے پر غربت میں کمی کی ایسی ہی دوسری مثال چین کی ہے جہاں 40 سال کے عرصے میں 80 کڑے کروڑ سے زائد افراد کو انتہائی غربت سے نکالا گیا تھا۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین سرکاری خاندانی سرویز کی مدد سے لگائے گئے تخمینے کے مطابق تقریباً 496 ملین افراد غربت کی لکیر سے اوپر آئے۔ اس دوران 4.20 ڈالر یومیہ کی نچلی متوسط آمدنی کی حد سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کا تناسب 57.7 فیصد سے کم ہو کر 16.1 فیصد پر آ گیا۔ عالمی بینک نے ان نرخوں کا تعین کرنے کے لیے بھارتی سرکاری ادارے نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کی طرف سے کیے گئے گھریلو کھپت کے اخراجات کے سرویز کا استعمال کیا۔ الجزیرہ کے مطابق اس معاشی ترقی کی بنیادی وجوہات میں صارفین کی قوت خرید میں اضافہ، روزگار کے مواقع بالخصوص خواتین میں بڑھتی ہوئی ملازمتیں اور خوراک کی سبسڈی سمیت فلاحی اقدامات کی توسیع شامل ہیں۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق بھارت میں انتہائی غربت میں کمی دنیا کی تیز ترین غربت کش کمی میں شمار ہوتی ہے جسے عالمی بینک نے شاندار پیش رفت قرار دیا ہے۔ 1.4 ارب کی آبادی والے اس ملک میں غربت میں اس نمایاں کمی کے باوجود، 1990 کی دہائی کے اوائل میں معیشت کھلنے کے بعد سے آمدنی اور دولت کی نابرابری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2026 کی ورلڈ انکوئلٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ نے بتایا کہ بھارت میں دولت کا فرق دنیا کی بلند ترین سطح میں شامل ہے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
خطے کے مبصرین کے لیے پڑوسی ممالک میں ہونے والی یہ بڑی معاشی تبدیلیاں تیز رفتار ترقی اور دولت کے بڑھتے ہوئے فرق کے درمیان پیچیدہ تعلق کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ سمجھنا کہ اتنی بڑی آبادی انتہائی غربت سے کیسے باہر نکلی جبکہ نابرابری برقرار ہے، ترقی پذیر معیشتوں کے لیے اہم معاشی نکتہ فراہم کرتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ کے مطابق عالمی بینک کے جنوبی ایشیا کے غربت کے ماہر ایاگو وامبیلے کی زیر قیادت رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ بھارت میں غربت میں کمی کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، اگرچہ اب یہ رفتار کچھ سست ہو گی۔ 4.20 ڈالر یومیہ کی لائن پر غربت کی شرح 2026 کے 14.2 فیصد سے کم ہو کر 2028 تک 12.1 فیصد پر آنے کی توقع ہے۔
