آرمینیا کے دارالحکومت یروان میں دنیا بھر سے آئے نمائندوں نے طویل اور سخت مذاکرات کے بعد بالاخر فطرت کے تحفظ سے متعلق ایک اہم معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، یہ مذاکرات طے شدہ وقت سے گھنٹوں آگے نکل گئے اور ہفتے کی صبح کے آغاز پر اختتام پذیر ہوئے۔ اس موقع پر اجلاس کے صدر ہمبارڈزوم ماٹیووسیان نے اعلان کیا کہ "اور بس یہی ہے، بالکل درست۔"
بی بی سی کے مطابق، اس سے چار سال قبل 2022 میں ان ہی ممالک نے گلوبل بائیو ڈائیورسٹی فریم ورک پر دستخط کیے تھے، جس میں 24 اہداف شامل تھے جن میں دہائی کے آخر تک دنیا کی 30 فیصد زمین اور سمندروں کو تحفظ فراہم کرنا بھی تھا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت چھٹی بڑی بڑے پیمانے پر ناپیدگی کی زد میں ہے، جہاں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے انواع فطرت قدرتی شرح سے 100 گنا تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے حوالے سے بی بی سی نے بتایا کہ دنیا اس وقت ان 24 میں سے صرف ایک ہدف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے، جس پر ممالک نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پیچھے رہ رہے ہیں۔
ماحولیاتی ادارے فاونا اینڈ فلورا سے وابستہ کیتھرین ویلر نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ یہ معاہدہ بہت زیادہ پرجوش یا تفصیلی نہیں ہے، لیکن یہ اچھی خبر ہے کہ ممالک کسی معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم 2030 تک یونہی نہیں چل سکتے، راستے کو درست کرنا ضروری ہے کیونکہ فطرت زمین پر موجود تمام زندگی، ہماری معیشتوں اور ہماری فلاح و بہبود کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دی وائلڈ لائف ٹراسٹس کے سی ای او کریگ بینیٹ نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ دنیا اب بھی ہولناک نقصان دیکھ رہی ہے جو عالمی سطح پر ماحولیاتی نظام کے انہدام کا خطرہ پیدا کر رہا ہے، اور اس بات کی سنگین نوعیت کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔
پس منظر
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، سنہ 2022 کے گلوبل بائیو ڈائیورسٹی فریم ورک میں فطرت کے زوال کو روکنے اور اسے الٹنے کے لیے 24 اہداف مقرر کیے گئے تھے۔ زیادہ تر اہداف میں پیچھے رہنے کے باوجود، ممالک نے 623 ملین ایکڑ سے زیادہ تباہ حال زمین کو تحفظ میں لے لیا ہے، جو کہ گرین لینڈ سے بھی بڑا رقبہ ہے۔ اس کے علاوہ، بی بی سی کے مطابق گزشتہ ماہ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے ان تحفظی کوششوں کی تعریف کی تھی جن کی بدولت ہاتھیوں، سبز سمندری کچھوؤں اور چیتوں سمیت اہم اقسام کی بحالی میں مدد ملی۔ تاہم، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ممالک بین الاقوامی امداد کو دفاعی بجٹ اور بار بار آنے والے توانائی کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے موڑ رہے ہیں، جس سے 2030 کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے درکار مالیاتی اعانت کی رفتار سست ہو گئی ہے۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
یروان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران، فطرت کی بحالی کی کوششوں میں مدد کے لیے 1 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم کا وعد مخیّر حضرات کی طرف سے کیا گیا، جس میں نصف رقم لیونارڈو ڈی کیپریو کی تنظیم Re:wild جیسے مخیّرین کی طرف سے آئی، جیسا کہ بی بی سی نے رپورٹ کیا۔ یہ فنڈنگ اس بنیادی رکاوٹ کو دور کرتی ہے جسے تحفظ ماحولیات کو تیز کرنے کی کوشش کرنے والے ممالک نے تسلیم کیا ہے۔ عام قارئین کے لیے، یہ عالمی معاہدے اور فنڈنگ کے طریقہ کار بین الاقوامی ماحولیاتی پالیسی، معاشی استحکام، اور زمین پر زندگی کے لیے لازمی قدرتی وسائل کے تحفظ کے درمیان گہرے تعلق کو واضح کرتے ہیں۔

