واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ پالیسی پر احتجاجاً مستعفی ہونے والے سابق امریکی حکام نے آنے والے صدارتی انتخابات کے حوالے سے ایک سخت موقف اپنا لیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، سابق انتظامیہ کے 12 عہدے داروں نے جو 2023 کے آخر سے 2024 کے دوران اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے تھے، ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ "گ Gaza Resignees" کے عنوان سے جاری اس بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 2028 کے ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار اس بات کا اعادہ کریں کہ وہ سابقہ انتظامیہ کے طریقۂ کار کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

مستعفی ہونے والے ان حکام کا مؤقف ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے لیے غیر مشروط حمایت کے خلاف اپنے عہدے چھوڑے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ اندرونی طور پر اس تنازعے کا حصہ بنے، انہیں مستقبل میں اقتدار کے ایوانوں میں واپس آنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔

اہم حقائق

  • الجزیرہ کے مطابق، 12 سابق امریکی حکام نے بدھ کے روز جاری ہونے والے "گازہ ریزائہورز" بیان پر دستخط کیے۔
  • الجزیرہ اور رয়ٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یہ بیان 2028 کے ڈیموکریٹ نامزد امیدواروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اہلکار کو نوکری دینے سے گریز کا عہد کریں جو براہِ راست غزہ میں فوجی کارروائیوں میں ملوث رہا ہو۔
  • الجزیرہ کے توسط سے فلسطینی محکمہ صحت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اکتوبر 2023 سے جاری تنازعے میں کم از کم 74,564 فلسطینی جاں بحق اور 175,770 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
  • الجزیرہ کے مطابق، مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں، ماہرین، اسکالرز اور اقوام متحدہ کی تحقیقات نے اس عسکری مہم کو نسل کشی کے مترادف قرار دیا ہے۔
  • الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نمائندہ راشدہ طلیب اور نیویورک شہر کے میئر زہران ممدانی نے اسرائیل کے لیے جاری امریکی حمایت کی مخالفت کی ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، استعفیٰ دینے والے یہ اہلکار بائیڈن انتظامیہ کے دور میں خدمات انجام دے رہے تھے جو 2021 سے 2024 تک برسرِ اقتدار رہی۔ اکتوبر 2023 میں تنازعے میں تیزی آنے کے بعد سے اس انتظامیہ کو ترقی پسند قانون سازوں اور فعال کارکنوں کی طرف سے مسلسل تنقید کا سامنا رہا ہے۔ سابق حکام کا کہنا ہے کہ سابقہ پالیسی کے معمار اب پالیسی سازی کے مناصب پر واپسی کے لیے اپنے کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بیان میں 2028 کے امیدواروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آئین کی پاسداری، قومی مفاد کے حصول اور اسلحے، فنڈنگ اور سفارتی پشت پناہی کے ذریعے غزہ میں امریکی شمولیت کا اعتراف کرنے کے تین مخصوص حلف اٹھائیں۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے

واشنگٹن سے جاری ہونے والے بین الاقوامی پالیسی کے فیصلے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون سے متعلق سفارتی مباحثوں کو متاثر کرتے ہیں۔ بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے حلقوں کے نزدیک، بڑی عالمی طاقتوں کے اندرونی سیاسی مباحثوں میں تبدیلیاں مستقبل کے بین الاقوامی تعلقات اور احتساب کے معیار میں ممکنہ تبدیلیوں کا اشارہ دیتی ہیں۔