راولپنڈی میں پیر کے روز عسکری اور سیاسی حلقوں میں اس وقت سوگ کی فضا چھا گئی جب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال کی افسوسناک خبر دی۔ ان کے رخصت ہونے سے ملک کی عسکری تاریخ کا ایک اہم باب تمام ہو گیا ہے، جس پر ملکی قیادت کی جانب سے فوری طور پر تعزیت اور خراج تحسین کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام رینکس نے جنرل کاکڑ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ عسکری میڈیا ونگ نے بتایا کہ مسلح افواج نے مرحوم کی شاندار عسکری خدمات، قیادت اور ملک کے لیے دی گئی گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، اور سوگوار خاندان کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی۔
سیاسی اور مدنی قیادت بھی سابق آرمی چیف کے سوگ میں برابر کی شریک رہی۔ سرکاری اعلانات کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنے رنج کا اظہار کیا اور پاک فوج کے لیے جنرل کاکڑ کی خدمات پر باضابطہ طور پر خراج تحسین پیش کیا۔
پس منظر
آئی ایس پی آر کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ نے پیر کے روز راولپنڈی میں انتقال کرنے سے قبل پاک فوج کے چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر خدمات سر انجام دی تھیں۔
اس خبر کی اہمیت
جیو نیوز اور آئی ایس پی آر کے ریکارڈ کے مطابق، کسی بھی سابق فوجی سربراہ کا اس دنیا سے رخصت ہونا موجودہ عسکری کمان اور ملک کے اعلیٰ ترین سول دفاتر دونوں کی طرف سے اجتماعی سرکاری سوگ کا باعث بنتا ہے، جو اس عہدے کے ادارہ جاتی وقار کی عکاسی کرتا ہے جو انہوں نے ایک وقت میں سنبھالا تھا۔

