ملکی سیاسی منظر نامے پر ایک بار پھر تناؤ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور وفاقی دارالحکومت میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے انتہائی انتظامی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی سیاسی رسہ کشی کے اس ماحول میں اگرچہ وفاقی حکام کی کوشش ہے کہ اس سخت قدم سے بچا جائے، لیکن صورتحال کے پیش نظر تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
گورنر راج صرف آخری آپشن
ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق، وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے سے کتراتی ہے اور اسے آخری آپشن کے طور پر دیکھتی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس صورتحال پر کھل کر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ اس راستے سے گریز کی کوشش جاری ہے، لیکن سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے اگر دوسرے تمام دروازے بند ہو گئے تو یہ انتہائی قدم بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
سیاسی لائحہ عمل کی ضرورت
ایکسپریس ٹریبیون کے توسط سے سامنے آنے والے بیان میں خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ ایک روایتی سیاسی جماعت کی طرح رویہ اختیار کرے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں صوبے کے اندر حکمرانی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اہم فیصلے ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔
وفاقی سطح پر ان مشاورتوں نے مرکز اور صوبے کے درمیان طاقت کے نازک توازن کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر گورنر راج کا فیصلہ کیا گیا تو یہ موجودہ سیاسی کشیدگی میں ایک بڑا اضافہ ہوگا، جس سے آنے والے چند دن صوبے کے انتظامی مستقبل کے لیے انتہائی اہم بن گئے ہیں۔

