شمالی انگلینڈ کے ایک وائلڈ لائف پارک میں اس وقت المناک صورتحال پیدا ہو گئی جب ایک شخص ٹائیگر کے احاطے میں داخل ہو گیا اور جانور کے حملے کا نشانہ بن گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ اور ساؤتھ یارکشائر پولیس کے بیانات کے مطابق، ڈونکاسٹر کے قریب واقع یارکشائر وائلڈ لائف پارک میں حفاظتی حصار عبور کیے جانے کی اطلاعات ملتے ہی ہنگامی خدمات کا عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گیا۔

الجزیرہ کے مطابق پولیس اور طبی عملہ ہفتے کی دوپہر تقریباً 1 بج کر 35 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچا۔ طبی عملے کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ شخص موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ بات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی کہ اس شخص نے احاطے کے اندر رسائی کیسے حاصل کی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں ملوث ٹائیگر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ پورے واقعے کے دوران اپنے احاطے کے اندر ہی رہا۔ پولیس نے تصدیق کی کہ اس المیے کے بعد عوام کو کسی قسم کا کوئی وسیع خطرہ لاحق نہیں تھا۔ اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پارک کی انتظامیہ نے احاطے کو خالی کرا لیا اور اتوار تک کے لیے تمام سرگرمیاں معطل کر دیں۔

الجزیرہ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے شخص کے اہل خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے اور ماہر افسران ان کی معاونت کر رہے ہیں۔ حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس فوٹیج سے آگاہ ہیں جس میں مبینہ طور پر حملے سے پہلے اس شخص کو احاطے کے اندر دیکھا جا سکتا ہے، اور انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس تکلیف دہ ویڈیو کو مزید شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یارکشائر وائلڈ لائف پارک نے 2009 میں عوام کے لیے اپنے دروازے کھولے تھے۔ اس تنصیب میں ٹائیگرز کے لیے مخصوص 'لینڈ آف دی ٹائیگرز' نامی اٹریکشن بھی شامل ہے جو 2011 میں خطرے سے دوچار آمور ٹائیگرز (جنہیں سائبیرین ٹائیگرز بھی کہا جاتا ہے) کے لیے 0.4 ہیکٹر پر مشتمل ایک مخصوص محفوظ علاقے کے طور پر کھولی گئی تھی۔ اس پارک میں 300 میٹر بلند واک وے بنایا گیا ہے تاکہ زائرین جنگلات، گھاس کے میدانوں اور آبشار کے تالاب کے اردگرد موجود جانوروں کا مشاہدہ کر سکیں۔

یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟

عام قارئین کے لیے وائلڈ لائف انکلیوژرز سے جڑے یہ واقعات دنیا بھر کے چڑیا گھروں اور تفریحی مقامات پر حفاظتی پروٹوکولز اور زائرین کے لیے مقرر کردہ حدود کی انتہائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اگرچہ چڑیا گھر اور وائلڈ لائف ریزروز تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نایاب نسل کے جانوروں کی بقا کے لیے بھی کام کرتے ہیں، لیکن انسانی جان اور قید میں موجود جنگلی حیات دونوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی تدریسر پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر رہتا ہے۔