بربادی کے ڈھیروں میں گھرے اولیشکی کے مکینوں کو ایک عارضی خاموشی نے ایک دردناک دواہے پر لا کھڑا کیا ہے: یا تو سب کچھ چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف نکل جائیں، یا پھر پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات سے محروم اس اجڑے ہوئے شہر میں ہی زندگی گزارنے پر مجبور رہیں۔ بی بی سی کے مطابق، خیرسون کے محاذ پر ہونے والی مقامی جنگ بندی کی بدولت اولیشکی سے باہر نکلنے کا ایک راستہ کھول دیا گیا ہے، جس نے شہریوں کو بسوں کے قافلے میں سوار ہونے کے لیے چند گھنٹوں کا موقع فراہم کیا۔
اہم حقائق
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی خاتون اول میلانیہ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی منگل سے خیرسون کے محاذ پر نافذ العمل ہے۔ اس عارضی وقفے کی وجہ سے اولیشکی سے باہر جانے والی سڑک کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنا ممکن ہوا۔
بی بی سی کے مطابق، کم نقل و حرکت والے افراد کے لیے 25 بسوں اور ایمبولینسوں کا قافلہ لایا گیا تاکہ 750 تک افراد کو دوپہر 2 بجے تک نکالا جا سکے۔ اس شدید تباہی اور گیس، بجلی اور پانی کی مکمل عدم موجودگی کے باوجود کئی سو افراد نے شہر میں ہی مقیم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بی بی سی نے بتایا ہے کہ انخلا کرنے والوں کو روسی قبضے والے علاقے سے گزر کر روس کے جنوبی شہر انাপা جانا ہوگا، جہاں سے وہ بیلاروس کے شہر گومل کے لیے روسی حکومت کے طیارے میں سوار ہوں گے، اور پھر وہاں سے سڑک کے راستے یوکرین کے چرنیہیو کے علاقے میں داخل ہوں گے۔ توقع ہے کہ کچھ لوگ روسی قبضے والے علاقوں میں ہی رک جائیں گے۔
بی بی سی کے مطابق، یوکرین کے انسانی حقوق کے محتسب دیمیترو لوبینٹس اور ان کی روسی ہم منصب یانا لانتراٹووا نے کریمیا کے جزیرہ نما آرمیانسک سے اکٹھے اولیشکی کا سفر کیا۔ بی بی سی نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے لوبینٹس پہلے یوکرینی عہدیدار ہیں جنھوں نے روسی قبضے والے یوکرینی حصوں کا دورہ کیا ہے۔
بی بی سی نے یہ بھی اجاگر کیا کہ روس نے جمعرات کو کہا تھا کہ اس نے ان مکینوں کے لیے خوراک اور ادویات سمیت درجنوں ٹن امداد تیار کی ہے جو وہیں رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
پس منظر
بی بی سی کے مطابق، اولیشکی یوکرین کے زیر کنٹرول علاقے سے صرف 5 کلومیٹر (3.1 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔ شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے مکین بجلی، گیس اور پانی سے محروم ہیں۔ انخلا کی اس نایاب کوشش کے لیے یوکرینی محتسب دیمیترو لوبینٹس اور روسی اہلکار یانا لانتراٹووا کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پیش آئی، جس پر بی بی سی کا کہنا ہے کہ یوکرین میں کچھ حلقوں کی طرف سے قابض طاقت کے نمائندے کے ساتھ کھڑے ہونے کے تاثر پر مختلف ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان اور دنیا بھر کے مبصرین کے لیے، اولیشکی کی یہ پیش رفت طویل تنازعات کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقصان اور امدادی سرگرمیوں و محفوظ راستوں کی فراہمی کے لیے درکار نازک سفارت کاری کو اجاگر کرتی ہے۔ اگرچہ جغرافیائی سیاسی زاویے پیچیدہ ہیں، لیکن محاذ جنگ کے علاقوں میں پھنسے ہوئے شہریوں کی مشکلات نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کے انہدام اور گھر چھوڑنے یا مسلسل سختیوں کو برداشت کرنے کے مشکل فیصلوں جیسے عالمی چیلنجز کو بے نقاب کرتی ہیں۔
آگے کیا ہوگا
بی بی سی کے مطابق، دیمیترو لوبینٹس ہفتے کے روز انخلا کرنے والوں کو واپس یوکرین واپس لے جاتے ہوئے روس کا دورہ کرنے والے پہلے یوکرینی عہدیدار بننے والے ہیں۔

