پاکستان کے ہر بچے کو اس کے خاندانی پس منظر یا علاقے سے ہٹ کر معیاری تعلیم تک رسائی ملنی چاہیے۔ جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے دانش اسکول کوری کی افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں یکساں مواقع فراہم کیے بغیر ملک اپنی اصل منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے 1947 کی ہجرت کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں لوگوں نے سب کچھ اس امید پر چھوڑا تھا کہ ایک ایسا ملک بنے گا جہاں انصاف، دیانت اور میرٹ کی حکمرانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج 80 سال کے قریب پہنچ کر ہمیں رک کر دیانت داری سے یہ سوچنا ہوگا کہ کیا آج کی حقیقت قائد اعظم محمد علی جinnah کے خوابوں کے مطابق ہے یا نہیں۔
جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم نے اشرافیہ اور عام خاندانوں کے بچوں کے تعلیمی مواقع کا موازنا کیا۔ اشرافیہ اپنے بچوں کو ملک کے اندر مہنگے اداروں یا شمالی امریکہ اور جنوبی فرانس جیسے ممالک میں پڑھا سکتی ہے، جبکہ پاکستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے غریب گھرانوں کے ہونہار بچوں کے لیے ایچی سن کالج جیسے اداروں میں جانے کا تصور بھی محال ہے۔ اس فرق کو مٹانے کے لیے انہوں نے بتایا کہ 2010 میں پسماندہ طلبہ کی بہتری کے لیے دانش اسکولوں کا نیٹ ورک بنایا گیا تھا، اور اب پنجاب انڈومنٹ فنڈ کو پاکستان انڈومنٹ فنڈ میں تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ قائد اعظم کے خواب کو پورا کیا جا سکے۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق اس تقریب میں وزرا، ارکان پارلیمنٹ، سفارت کاروں، حکام، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے ایک ہونہار اور پنجاب کے پسماندہ علاقے کی اس بچی کی مثال دی جس نے دانش اسکول سے پڑھ کر ڈاکٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ اہم کیوں ہے
عام پاکستانی خاندانوں کے لیے تعلیمی نظام کا یہ فرق روزمرہ زندگی اور آنے والی نسل کے مستقبل پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس بحث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور دیہی پنجاب کے بچوں کو بھی وہی معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی جدوجہد جاری ہے جو ملک کے خوشحال طبقے کو آسانی سے میسر ہے۔

