ہایتی میں ایک طرف سیکیورٹی بحران نے شدت اختیار کر لی ہے تو دوسری طرف طویل انتظار کے بعد ہونے والے انتخابات کو مزید آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق ال سلواڈور کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے لاپتہ اہلکاروں کی تلاش اور مسلح گروہوں سے نمٹنے کے لیے ہایتی میں دو ہزار سے زائد فوجی تعینات کرے گا۔ یہ اعلان عین اس روز سامنے آیا جب ہایتی کے انتخابی حکام نے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کی تاریخ کو 13 دسمبر سے تبدیل کرکے 18 جولائی 2027 کر دیا، جو اس کیریبین ملک میں منتخب حکومت کی بحالی کے حوالے سے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔
اہم حقائق
- فوجی تعیناتی: الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق ال سلواڈور کی وزارتِ خارجہ نے لاپتہ اہلکاروں کی تلاش اور مسلح گروہوں سے لڑنے کے لیے دو ہزار سے زائد فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔
- لاپتہ اہلکار: الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق چار سلواڈوران ایوی ایشن تکنیکی ماہرین 18 اکتوبر کو اس وقت لاپتہ ہو گئے تھے جب پورٹ او پرنس کے مشرق میں واقع علاقے کروا ڈی بوکی میں مسلح افراد نے بین الاقوامی سیکیورٹی مشن کے دوران ان کی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا۔
- انتخابات میں تاخیر: الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز نے بتایا کہ ہایتی کی عارضی انتخابی کونسل نے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا پہلا مرحلہ 13 دسمبر سے ہٹا کر 18 جولائی 2027 کر دیا ہے، جبکہ دوسرا مرحلہ اور مقامی انتخابات 4 اکتوبر 2027 کو ہوں گے۔
- قیادت کے درمیان رابطے: الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق سلواڈوران کے صدر نایب بوکیلے نے بدھ کے روز ہایتی کے وزیر اعظم الیکس ڈیڈیئر فلز-ایم سے ٹیلی فون پر بات کی اور ریسکیو و سیکیورٹی آپریشنز پر تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سے قبل صدر بوکیلے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دھمکی دی تھی کہ اگر لاپتہ اہلکار رہا نہ کیے گئے تو ہایتی کے گینگز کا صفایا کر دیا جائے گا۔
- ووٹر رجسٹریشن اور انسانی بحران: میامی ہیرالڈ کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز نے بتایا کہ بدھ کے روز تک 6.5 ملین اہل ووٹرز میں سے 900 ہزار سے بھی کم افراد نے رجسٹریشن کرائی تھی، جبکہ بدھ کے روز جاری ہونے والی بین الاقوامی خوراک سیکیورٹی کی رپورٹ کے مطابق 5.94 ملین ہایتی باشندے شدید بھوک کا شکار ہیں۔
پس منظر
الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق ہایتی میں 2016 کے بعد سے کوئی انتخابات نہیں ہوئے ہیں اور ملک کے آخری صدر جووینل موئس کو 2021 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ مسلح گروہوں کی طرف سے پیدا کردہ شدید بدامنی کی وجہ سے یکے بعد دیگرے آنے والی عبوری حکومتیں ووٹنگ کے عمل کی طرف واپسی کو مسلسل ملتوی کرتی رہی ہیں۔ انتخابات کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنے میں مدد کے غرض سے 2024 سے بین الاقوامی فوجی اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ سیکیورٹی arrangements کے تحت ہایتی میں فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ تاہم، گینگز کے زیر کنٹرول سڑکیں، بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا تشدد اور نقل مکانی نے ووٹر رجسٹریشن کی کوششوں اور روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، جس نے لاکھوں افراد کو متاثر کرنے والے غذائی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اس صورتحال کی اہمیت
پاکستان اور بین الاقوامی برادری کے مبصرین کے لیے ہایتی کی صورتحال ان پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے جو طویل سیاسی عدم استحکام اور سنگین سیکیورٹی چیلنجز کے انسانی بحرانوں کے ساتھ ملنے پر پیدا ہوتی ہیں۔ جمہوری عمل کی مسلسل تاخیر اور بین الاقوامی سیکیورٹی مشنز پر انحصار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جب ریاستی ادارے کمزور پڑ جائیں تو حکمرانی اور بنیادی غذایی سیکیورٹی دونوں کو کس قدر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

