جب دنیا کے اہم تجارتی راستوں اور علاقائی امن پر کشیدگی کے سائے منڈلا رہے ہیں، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار جمعہ کے روز اہم سفارتی مذاکرات میں شرکت کے لیے ترکی کے شہر استنبول پہنچ گئے۔ جیو نیوز کے مطابق ان کے اس دورے کا مرکز R4 وزارتی اجلاس میں شرکت ہے، جس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر شامل ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وسیع تر R4+ اجلاس میں بھی شرکت کی جا رہی ہے جس میں اہم یورپی ممالک شامل ہیں۔
استنبول ہوائی اڈے پر اترنے پر سینیٹر اسحاق ڈار کا استقبال کرنے والے اعلیٰ حکام میں ترک وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر جہاد ارگینای، پاکستان کے ناظم الامور شائق احمد، استنبول میں پاکستان کے قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم اور ایڈیشنل سیکریٹری سفیر خلیل ہاشمی کے علاوہ سفارتخانے اور قونصل خانے کا دیگر عملہ بھی شامل تھا، جیسا کہ جیو نیوز نے رپورٹ کیا۔
اہم حقائق
- جیو نیوز نے رپورٹ کیا کہ یہ اجلاس ترکی کے وزیر خارجہ حکان فدان کی دعوت پر منعقد ہو رہے ہیں۔
- روئٹرز کے مطابق، ایک ترک سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ سات ممالک—R4 گروپ اور برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل E3 ممالک—ترکی کی پہل پر اس مخصوص فارمیٹ میں ملاقات کر رہے ہیں۔
- روئٹرز نے بتایا کہ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران، یمن اور یوکرین میں جاری جنگیں بحری راستوں اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
- جیو نیوز کے مطابق اپنے اس دورے کے دوران ڈی پی ایم اسحاق ڈار اپنے ہم منصبوں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات بھی کریں گے۔
پس منظر
روئٹرز اور جیو نیوز کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ان وزارتی مذاکرات کا مقصد مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہم مربوط سفارتی لائحہ عمل تلاش کرنا ہے۔ ایجنڈے میں فلسطین کا مسئلہ، آب جب ہرمز کی صورتحال، یمن سے متعلق امور، روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں، اور علاقائی و یورپی ممالک کے درمیان قریبی تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال شامل ہے۔ روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ ترک وزیر خارجہ حکان فدان کی طرف سے یہ زور دینے کی توقع ہے کہ امریکہ اور ایران کی جنگ کا سفارتی حل نکالا جائے، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی پر زور دیا جائے، اور ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سیکیورٹی کے ساتھ تعاون کا اعادہ کیا جائے۔ مزید برآں، فدان اس بات کا بھی احاطہ کریں گے کہ یوکرین تنازع کے بحیرہ سیاہ تک پھیلنے کے کیا خطرات ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
جیو نیوز کے مطابق ان اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں پاکستان کی شرکت تعمیری سفارت کاری، علاقائی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ عام شہریوں کے لیے عالمی سفارتی کوششیں جن کا مقصد تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا، علاقائی کشیدگی کو کم کرنا اور تنازعات کے پرامن حل تلاش کرنا ہے، عالمی معاشی استحکام اور سلامتی کے حوالے سے براہ راست اہمیت رکھتی ہیں۔

