پیشہ ورانہ گولف ایک بار پھر ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں کھلاڑیوں اور منتظمین کے درمیان کشمکش شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ڈی پی ورلڈ ٹور نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ 2027 کے سیزن کے لیے ایل آئی وی گولف سے جڑنے والے کھلاڑیوں کے لیے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، یورپی ٹور نے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو خبردار کیا ہے کہ انہیں اب واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کہاں کھیلنا چاہتے ہیں۔

اس نئی پالیسی کا مطلب یہ ہے کہ جو گولفرز اگلے سیزن میں ایل آئی وی گولف کا حصہ بنیں گے، وہ 2027 میں یورپی سرکٹ کی رکنیت برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ موجودہ قوانین کے تحت، یورپی ٹیم کی طرف سے رائڈر کپ کھیلنے کے لیے کھلاڑیوں کے پاس ڈی پی ورلڈ ٹور کی رکنیت ہونا لازمی ہے۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق دونوں ٹورز کے لیے ڈیڈ لائنز اگلے پانچ ہفتوں کے دوران آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے کھلاڑیوں پر اپنے ارادوں کا اظہار کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

پس منظر

بی بی سی اسپورٹس کے مطابق گزشتہ سیزن میں مشروط اجازت کی وجہ سے جان رام اور ٹائرل ہٹن جیسے چوٹی کے کھلاڑی دونوں سرکٹس پر کھیلتے رہے ہیں۔ اس وقت تقریباً 15 ایسے ایل آئی وی کھلاڑی موجود ہیں جو مختلف زمروں کے تحت ڈی پی ورلڈ ٹور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جوکین نیمن اور تھامس پیٹرز جیسے دیگر کھلاڑی، جن کے پاس یہ حیثیت نہیں ہے، ماضی میں کوالیفائنگ اسکول کے ذریعے یا طے شدہ ٹورنامنٹ کی دعوتوں کے لیے معاہدے کر کے آ سکتے تھے، لیکن ٹور نے واضح کر دیا ہے کہ اب مستقبل کے ایل آئی وی شرکاء کے لیے یہ اختیارات دستیاب نہیں ہوں گے۔ بی بی سی اسپورٹس نے یہ بھی بتایا کہ ایل آئی وی میں جانے کے ارادے کو چھپانا اور بعد میں شرکت کرنا ڈی پی ورلڈ ٹور کی رکنیت ختم کرنے کی بنیاد سمجھا جائے گا۔

دریں اثنا، بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق ایل آئی وی گولف نے ستمبر میں سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی طرف سے اربوں ڈالر کی مالی اعانت کے اخراج کے بعد تنظیم نو کے لیے چیپٹر 11 کے تحت دیوالیہ پن کے تحفظ کی درخواست دی تھی۔ گزشتہ ہفتے، سرکٹ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے 2027 کے سیزن کی طرف بڑھنے کی کوششوں میں مدد کے لیے بی سی پارٹنرز کریڈٹ سے 30 کروڑ ڈالر کی ممکنہ مالی اعانت حاصل کر لی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے کھیلوں کے شوقین افراد کے لیے، بڑے ٹورز کے درمیان جاری یہ کشمکش جدید پیشہ ورانہ کھیلوں کی مالی اور اسٹرکچرل تقسیم کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ کرکٹ کے مقابلے میں گولف یہاں ایک محدود تماشائیوں کا کھیل ہے، لیکن انتظامی تنازعات اور اہلیت کی پابندیاں تجارتی کنٹرول، کھلاڑیوں کی وفاداری اور بین الاقوامی نمائندگی کے حوالے سے جاری وسیع بحث کی عکاسی کرتی ہیں۔