سوڈان کے سرحدی علاقے میں سونے کی تلاش میں سرگرداں مزدوروں پر ہونے والے فضائی حملوں نے ایک بار پھر خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، خرطوم میں قائم علاقائی حقوق کی تنظیم 'ایمرجنسی لائرز' نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے روز سوڈان کی ریاست دریائے نیل میں روایتی طریقے سے سونا تلاش کرنے والے مزدوروں کے کیمپوں کو جیٹ طیاروں نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

پیرس سے شائع ہونے والے 'سوڈان ٹریبیون' کے مطابق، اس ہولناک حملے کے ایک چشم دید گواہ نے بتایا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ابتدائی اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس حادثے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سوڈان ٹریبیون کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 06:00 بجے شروع ہوا، جس دوران طیاروں نے مزدوروں کے کیمپوں پر پانچ سے زائد میزائل داغے اور کھدائی کے لیے بنائے گئے گڑھوں کو اس کے اندر موجود لوگوں سمیت تباہ کر دیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، مصری حکومت اور سوڈان کے عملی حکام کی طرف سے اس واقعے پر فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، اس سے قبل قاہرہ پر جنوبی سرحد کے قریب غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران سونے کے متلاشیوں پر ہلاکت خیز حملے کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

ایمرجنسی لائرز کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ حملے بین الاقوامی انسانی قانون اور حقِ حیات کی صریح خلاف ورزی ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ حقوق کی تنظیم نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ واقعہ خطے پر حکومتی کنٹرول کے فقدان اور سوڈانی خودمختاری کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتا ہے۔

پس منظر

بی بی سی نیوز اور سوڈان ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق، سوڈان میں جاری خانہ جنگی نے غیر روایتی اور دستی کان کنی کے رجحان میں اضافہ کیا ہے، جہاں عام شہری دور دراز سرحدی علاقوں میں بغیر سرکاری اجازت کے انتہائی خطرناک طریقوں سے معاش کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ دریائے نیل کی یہ سونے سے مالا مال پٹی ایسی غیر محفوظ سرحدوں کے قریب واقع ہے جہاں طویل عرصے سے اسمگلنگ کے راستے موجود ہیں۔

سوڈان ٹریبیون نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رواں سال جون میں بھی مبینہ طور پر مصری فورسز نے اسی علاقے میں ڈرونز اور توپ خانے کے ذریعے کان کنی کے مقامات کو نشانہ بنایا تھا، جس میں کئی اموات ہوئیں تھیں۔ اس سے پہلے کے واقعات میں مصری سرحدی محافظوں کی طرف سے مزدوروں کا سامان جلانے، عارضی خیموں کو نذر آتش کرنے اور کان کنوں پر براہ راست فائرنگ کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئ چکی ہیں۔

جون کے مبینہ واقعات کے بعد، مصر کی سرحدی ایجنسی نے فوج کے ساتھ مل کر سرحد پار غیر قانونی نقل و حرکت، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی کان کنی کے خلاف ایک وسیع سیکیورٹی مہم کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب، بی بی سی کے مطابق، سوڈان کے ڈی فیکٹو رہنما نے ان مبینہ حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ مصر کی سرحدی فورس نے جون میں 86 ٹن سونے کا خام مال اور روایتی آلات ضبط کرنے کا اعلان کیا تھا، جس سے یہ خدشات پیدا ہوئے کہ اسمگل شدہ سونا تنازعات کے شکار علاقوں میں سرگرم مسلح گروہوں کی مالی معاونت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس واقعے کی اہمیت کیوں ہے

بین الاقوامی مبصرین اور علاقائی سلامتی پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ واقعہ غیر محفوظ سرحدوں، داخلی کشمکش اور غیر رسمی معیشت کے درمیان پیچیدہ تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ المناک واقعہ دور دراز کے جنگ زدہ علاقوں میں سویلین ورکرز کو درپیش خطرات اور پڑوسی ممالک کی جانب سے سرحدی انتظامات کے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔