الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے مرکزی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی ایک بار پھر نئی دہلی کی سڑکوں پر آ گئے ہیں اور ان کے ہمراہ درجنوں ارکانِ پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرے وزیر اعظم نریندر مودی کی دہائی طویل سیاسی برتری کو چیلنج کرنے والی اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی تحریک کا حصہ ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق راہول گاندھی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مودی حکومت نے دارالحکومت کو جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ دوسری جانب نوجوانوں پر مشتمل کاکروچ تحریک، جس نے گزشتہ جولائی میں وزیرِ تعلیم کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا، نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں وسطی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ دی گئی تو وہ مزید مظاهرے کریں گے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ ہزاروں طلبہ نے راہول گاندھی کی کانگریس پارٹی، دیگر اپوزیشن گروپس اور کاکروچ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز روزانہ ہزاروں طلبہ کو حراست میں لے رہی ہیں جبکہ حراستی تشدد کے الزامات نے پورے دارالحکومت میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔

اس تنازع کی جڑ بھارت کا الیکشن کمیشن ہے جو دنیا کے سب سے بڑے انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والا خودمختار ادارہ ہے۔ الجزیرہ نے بتایا کہ اس وقت تنقید میں اضافہ ہوا جب یہ انکشاف ہوا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ووٹر ڈیٹا بیس میں تبدیلیوں کی شفافیت سے متعلق دیگر دو الیکشن کمشنرز کے تحفظات کو بار بار مسترد کیا۔ گزشتہ سال جون سے اب تک کمیشن نے ریاستوں میں ووٹرز کی فہرستوں پر نظرثانی کی ہے اور 13 کروڑ سے زائد ناموں کو خارج کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں اقلیتیں اور کمزور طبقات اپنے حقِ رائے دہی سے غیر متناسب طور پر محروم ہوئے ہیں، اگرچہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

راہول گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر پر غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم آپ کو نہیں بخشیں گے۔ اپوزیشن سیاستدانوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ راہول گاندھی اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں نکالے جانے والے احتجاجی جلوسوں کو پولیس اور بی جے پی کے حامیوں کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس صورتحال کی اہمیت

پاکستان اور خطے کے دیگر قارئین کے لیے پڑوسی ممالک میں انتخابی اداروں کی شفافیت، ووٹر رجسٹریشن کے عمل اور سیاسی اختلافِ رائے کے انتظام سے جڑے یہ واقعات جمہوری اداروں کی بقا اور حکومتی اداروں اور اپوزیشن تحریکوں کے باہمی تعلق پر جاری بحث کو اجاگر کرتے ہیں۔