کیوبا ایک بار پھر عالمی طاقت امریکہ کی نظروں میں ہے جہاں حال ہی میں کیوبا کے قریب امریکی فوجی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں اور حکام نے اس جزیرے کی آزادی کے حوالے سے اپنے ارقاد کھل کر سامنے رکھے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس صورتحال میں کسی بھی ممکنہ امریکی اقدام کی نوعیت اور وقت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ دہائیوں پر محیط کیوبا کا انقلاب اب اپنے انجام کے قریب ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق اس سال کے شروع میں وینزویلا میں ہونے والے امریکی آپریشنز نے مبصرین کی نظر میں کیوبا کے حوالے سے ممکنہ اقدامات کی راہ ہموار کی ہے۔ الجزیرہ نے کیوبا کے تاریخی عالمی کردار کا موازنہ یوروبا روایات کی ایک شخصیت سے کیا ہے جو روایتی ضابطوں کو چیلنج کرتی اور طاقت کے ڈھانچے کو بدلتی ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کیوبا کی جانب سے امریکی طاقت کو چیلنج کرنے کی تاریخ اس انقلاب کے ابتدائی ایام تک جاتی ہے۔ ستمبر 1960 میں ہوانہ کا کنٹرول سنبھالنے کے فوراً بعد سابق کیوبن رہنما فیدل کاسترو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک گئے تھے۔ اس وقت سرد جنگ میں الجھی ہوئی امریکی حکومت کے دباؤ پر نامور ہوٹلوں نے کاسترو اور ان کے وفد کو ٹھہرانے سے انکار کر دیا تھا۔

الجزیرہ کے مطابق کیوبن وفد نے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپ ٹاؤن ہارلم کا رخ کیا اور ہوٹل تھریسا میں قیام کیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے میڈیا طوفان کو جنم دیا اور عکاسوں کا تانتا بندھ گیا۔ کاسترو نے اس پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے کیوبن وفد کے ساتھ ہونے والے سلوک اور امریکی جنوب میں نسلی امتیاز کا شکار سیاہ فام امریکیوں کی حالتِ زار کے درمیان گہرا موازنہ کیا۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

عالمی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کے لیے کیوبا کے انقلاب کا ممکنہ خاتمہ جدید جغرافیائی سیاست کا ایک اہم موڑ ہے۔ 10 ملین آبادی پر مشتمل اس چھوٹے سے ملک نے سپر پاور کے سامنے ڈٹ کر ہمیشہ عالمی توجہ حاصل کی ہے، جو اس بات کی ایک واضح مثال ہے کہ چھوٹی ریاستیں عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کی اجارہ داری کا مقابلہ کیسے کرتی ہیں۔