چینی دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے ایک اہم سیاسی اجلاس کے اختتام پر اعلیٰ سطح پر اراکین کی اتنی بڑی تعداد میں برطرفی سامنے آئی ہے جو حالیہ برسوں میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، چار روزہ بند کمرہ اجلاس کے دوران حکمران کمیونسٹ پارٹی سے 33 اراکین کو خارج کر دیا گیا، جس کے بعد صدر شی جن پنگ کی تیسری مدتِ کار میں کل برطرفیوں کی تعداد ریکارڈ 51 تک پہنچ گئی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق، جن 33 اراکین کو نکالا گیا ہے ان میں سے 16 کا تعلق فوج سے ہے۔ بی بی سی نیوز کا بتانا ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفصیلات میں نہیں جایا گیا بلکہ انہیں "سنگین سرحدی و قانونی خلاف ورزیوں" جیسے وسیع الزامات تک محدود رکھا گیا ہے۔ اس سال ضابطہ کار کی کارروائیوں کے دوران جن اعلیٰ عہدیداروں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں سنکیانگ کے سابق پارٹی سربراہ ما ژنگروی کے علاوہ سابق ٹاپ جنرلز ژانگ یوشیا اور لیو ژینلی بھی شامل ہیں۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس پانچویں پلینم میں سینٹرل کمیٹی کے 279 اراکین نے شرکت کی، جو کہ اکتوبر 2025 میں ہونے والے چوتھے پلینم کے 315 اور جولائی 2024 کے تیسرے پلینم کے 364 شرکاء کے مقابلے میں واضح کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ موجودہ سینٹرل کمیٹی کا آغاز سن 2022 میں 370 سے زائد اراکین کے ساتھ ہوا تھا۔

سن 2012 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر شی جن پنگ نے بدعنوانی کے خلاف جنگ کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے اور اسے پارٹی کے لیے "سب سے بڑا خطرہ" قرار دیا ہے۔ بی بی سی نیوز کی جانب سے جن مبصرین کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں کارنگی چائنا کے چونگ جیا یان بھی شامل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ جاری مہم اب محض بدعنوانی کے خاتمے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ اقتدار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ، چین کے اعلیٰ ترین انسداد بدعنوانی نگران ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ سال کے پہلے نو مہینوں کے دوران پارٹی کے اندر 680,000 افراد کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

بین الاقوامی مبصرین اور دنیا بھر کے وہ ممالک جو عالمی طاقتوں کی اندرونی سیاسی صورتحال اور طرزِ حکمرانی پر نظر رکھتے ہیں، ان کے لیے قیادت کے ڈھانچے میں تبدیلیاں اور فوجی کمان میں ردوبدل ریاست کی ترجیحات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ چونکہ پارٹی قیادت سخت خود احتسابی اور اندرونی نظم و ضبط پر زور دے رہی ہے، اس لیے ان پیش رفتوں کا جائزہ لینا اس بات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ بڑی حکومتیں انتظامی نگرانی اور ادارہ جاتی اختیارات کو کس طرح سنبھالتی ہیں۔