نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں کھیلے جانے والے آرٹسٹک جمنسٹکس ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد امریکی بالادستی کا دور ختم ہو گیا۔ الجزیرہ کے مطابق چین نے ویمنز ٹیم کا گولڈ میڈل صرف 0.233 پوائنٹس کے معمولی فرق سے اپنے نام کیا۔ چینی جمنسٹ کیو کیوان نے دباؤ کے اس عالم میں شاندار فلور روٹین پیش کرتے ہوئے ٹیم کی فتح پر مہر ثبت کی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چینی ٹیم نے مجموعی طور پر 165.764 پوائنٹس حاصل کیے۔ آخری مرحلے میں کیو کو فتح کے لیے 12.600 سے زائد پوائنٹس درکار تھے اور انہوں نے 12.833 پوائنٹس حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی۔ جاپان نے اس مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی اور کانسی کا تمغہ جیتا، جو کہ چوتھے نمبر پر رہنے والی فرانسیسی ٹیم سے 1.468 پوائنٹس آگے رہا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق 2006 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے ویمنز ٹیم کا عالمی تاج اپنے سر سجایا ہے۔ اس سے قبل امریکی ٹیم 2011 سے لگاتار سات عالمی ٹیم ٹائٹلز اپنے نام کرتی چلی آ رہی تھی، اور 2010 کے بعد سے اسے کبھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا جب روس نے اسے ہرایا تھا۔
مقابلے کے نصف حصے تک امریکی ٹیم آگے تھی جس کی وجہ اسکائی بلیکلی کی شاندار کارکردگی تھی، تاہم بیلنس بیم کے مرحلے میں امریکی ٹیم کو دھچکا لگا۔ الجزیرہ کے مطابق 18 سالہ کیلر ڈلسی کے لڑکھڑانے سے صرف 12.333 پوائنٹس ملے جس سے چین کو آگے نکلنے کا موقع مل گیا۔ دوسری طرف چینی جمنسٹ ژانگ چنگ یانگ نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اسی اپریٹس پر 15.066 پوائنٹس حاصل کیے۔ یاد رہے کہ اس چیمپئن شپ میں نامور امریکی جمنسٹ سیمون بائلس شریک نہیں تھیں جو 2024 کے پیرس اولمپکس میں تین گولڈ میڈل جیتنے کے بعد آرام کر رہی ہیں۔
اس کی اہمیت کیا ہے
دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے لیے یہ مقابلہ اس بات کا مظہر ہے کہ مسلسل محنت اور دباؤ میں اعصاب پر قابو رکھ کر طویل المدتی برتری کو بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ اس کھیل کی ترویج محدود ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے بدلتے ہوئے رجحانات شائقین کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ کے مطابق نیدرلینڈز میں چیمپئن شپ کے مقابلے جاری ہیں جہاں جاپان کے ڈائیکی ہاشیموٹو اپنے مینز آل آراؤنڈ ٹائٹل کا دفاع کریں گے، جن کا مقابلہ اپنے ہی وطن کے اولمپک چیمپئن شینوسوکے اوکا سے ہوگا۔

