قومی پرچموں سے سجے ہوئے ٹرکوں نے اس ہفتے جب ایک نئے پل کو عبور کیا تو چین اور شمالی کوریا کے درمیان گہرے ہوتے تعلقات کا ایک اور باب رقم ہو گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 'نیو یالو ریور برج' کے افتتاح کا مقصد شمالی کوریا کی معاشی تنہائی کو کم کرنا ہے جبکہ پیانگ یانگ بیجنگ اور ماسکو دونوں سے قریبی رابطے استوار کر رہا ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، شمال مشرقی چین کے شہر ڈنڈونگ کو شمالی کوریا کے شہر سنویجو سے ملنے والے اس چار لین پل کی افتتاحی تقریب جمعرات کے روز منعقد ہوئی۔ سرکاری میڈیا کی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ دونوں ممالک کے پرچموں سے مزین ٹرک پل پر قطار میں کھڑے ہیں۔ ژنہوا نے بتایا کہ چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے ایک ویڈیو خطاب میں اس پل کو روایتی دوستی کی ایک "نئی علامت" قرار دیا اور دونوں اطراف پر باہمی رابطوں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔ رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے وزیر اعظم پاک تھائے سونگ نے بھی ایک ویڈیو پیغام دیا۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 3 کلومیٹر (1.8 میل) طویل اس روڈ پل سے پرانے ہوتے ہوئے 'سینو کورین فرینڈشپ پل' پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔ یہ کئی دہائیوں پرانا ڈھانچہ اس وقت ریلوے ٹریفک اور یکطرفہ گاڑیوں کی آمدورفت سنبھال رہا ہے، جبکہ چینی اعداد و شمار کے مطابق سرکاری دو طرفہ تجارت کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ اسی کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ جنوبی کوریا کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی کوریا اور چین کے درمیان 1400 کلومیٹر (870 میل) طویل سرحد پر کم از کم 17 فعال سڑک اور ریل کے راستے موجود ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
بین الاقوامی مشاہدین اور عالمی تجارت کی پیش رفت پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے، اس پیمانے کے انفراسٹرکچر منصوبے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی دباؤ اور معاشی تنہائی کے تحت علاقائی رابطہ کاری کیسے پروان چڑھتی ہے۔ اگرچہ ذرائع میں پاکستان پر براہ راست اثرات کی تفصیل موجود نہیں ہے، لیکن اس افتتاح سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تنہائی کا شکار معیشتیں تجارتی راستوں اور معاشی سہارے کے لیے اپنے بڑے علاقائی شراکت داروں پر کس قدر انحصار کرتی ہیں۔

