جس وقت سینکڑوں مداح اس کی واپسی پر خوشیاں منا رہے تھے، جنوبی کوریا کی سب سے مشہور پھنسی ہوئی شارک نے رکاوٹ توڑ دی اور وہیں واپس پہنچ گئی جہاں سے اس کی کہانی شروع ہوئی تھی۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، 'بوکانگی' نامی ڈسکی شارک جنوب مشرقی بندرگاہی شہر بوسان کی ایک نہر میں دوبارہ آ گئی، جس سے آٹھ گھنٹے طویل ریسکیو آپریشن پر پانی پھر گیا۔
بی بی سی نیوز اور جنوبی کوریا کی وزارتِ سمندر کے مطابق، حکام نے بدھ کے روز کامیابی کے ساتھ اس تین میٹر (10 فٹ) لمبی شارک کو نہر سے نکال کر کھلے سمندر میں پہنچایا تھا۔ تاہم، بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جانور نے حکام کی لگائی گئی رکاوٹ کو توڑ کر دوبارہ نہر کے دہانے تک تیرنے کا راستہ بنا لیا۔ بی بی سی کے توسط سے سامنے آنے والی روئٹرز کی تصاویر میں جال کی مدد سے شارک کو باہر نکالنے کی سابقہ کوششیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق، بوسان کی ایک نہر میں طویل قیام کے بعد بوکانگی ایک غیر معمولی سنسنی بن گئی۔ شہر کے ایک پارک میں اس شارک کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے 16 لاکھ سے زائد افراد آئے، جس سے مقامی سیاحت کو زبردست فروغ ملا اور یہ جانور ایک غیر سرکاری ماسکاٹ بن گیا۔ بی بی سی نیوز کی طرف سے جن ماہرین کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ شارک شاید غیر معمولی طور پر گرم پانی اور مچھلیوں کی کثرت کی وجہ سے نہر کی طرف کھنچی چلی آئی، اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سمندروں کے گرم ہونے کی وجہ سے بوسان میں مستقبل میں مزید شارک آ سکتی ہیں۔
بی بی سی نیوز نے یہ بھی بتایا کہ حکام کو بوکانگی کی صحت کے بارے میں تشویش تھی کیونکہ وہ زخمی دکھائی دے رہی تھی، کچھ کھا نہیں رہی تھی، اور پانی کے گرتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے کمزور ہونے کا خدشہ تھا۔ بی بی سی کے مطابق، بدھ کے روز لائیو نشر ہونے والے ریسکیو سے پہلے جال کی مدد سے شارک کو باہر نکالنے کی دو ناکام کوششیں بھی کی جا چکی تھیں۔
اہمیت کیوں ہے
ماحولیاتی اور جنگلی حیات کی کہانیوں کا تعاقب کرنے والے بین الاقوامی قارئین کے لیے، یہ واقعہ شہری علاقوں میں جنگلی حیات سے واسطہ پڑنے اور بدلتے ہوئے سمندری ماحول کے اشتراک کو اجاگر کرتا ہے۔ جیسا کہ ساحلی پانیوں کا درجہ حرارت بدل رہا ہے، دنیا بھر کے شہروں کو مستقبل میں سمندری حیات کے ساتھ غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
بی بی سی نیوز کے مطابق، بوکانگی کو منتقل کرنے کے لیے ایک اور آپریشن جمعرات کے روز طے کیا گیا ہے۔

