معمول کی فوجی مشقیں اس وقت ایک بڑے المیے میں بدل گئیں جب تیز ہواؤں نے کینیڈا کے ایک مغربی فوجی اڈے پر تیزی سے پھیلنے والی آگ کو بھڑکا دیا، جس کی تصدیق الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز نے کی ہے۔ کینیڈا کی فوج کی تاریخ کے بدترین امن کے زمانے کے حادثات میں شمار ہونے والے اس واقعے میں 4 فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق یہ آتشزدگی کینیڈا کے صوبے البرٹا میں واقع وین رائٹ ملٹری بیس پر ہفتے کے روز گرেনেڈ لانچر رینج میں مشقوں کے دوران پیش آئی۔ کینیڈین فورسز ملٹری پولیس گروپ کی کمانڈر برگیڈیئر جنرل وینیسا ہنراہن نے صحافیوں کو بتایا کہ ہوا کی سمت اور رفتار میں اچانک تبدیلی کی وجہ سے آگ کی شدت میں اضافہ ہوا، جس کے شعلے تیزی سے قریبی تربیتی علاقے میں پھیل گئے۔
اہم حقائق
الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پرنس پیٹرشیا کی کینیڈین لائٹ انفنٹری کی تیسری بٹالین کی چارلی کمپنی کی جانب سے جنگی تربیت کے دوران پیش آیا۔ تقریباً 84 فوجی ان مشقوں میں حصہ لے رہے تھے جو لاطویہ میں متوقع تعیناتی کی تیاری کے سلسلے میں کی جا رہی تھیں۔
برگیڈیئر جنرل ہنراہن نے بتایا کہ چونکہ آگ رینج کے مستقل خطرناک زے میں لگی تھی، اس لیے ایمرجنسی فائر فائٹرز براہ راست آگ پر قابو پانے کے قابل نہیں تھے۔ اس سانحے کے نتیجے میں 4 اموات ہوئیں اور 39 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 27 فوجیوں کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔
پس منظر
الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ وین رائٹ ملٹری بیس کینیڈا کے وسیع و عریض گھاس کے میدانوں میں واقع ہے، جو کھلے میدانوں اور درختوں کے جھرمٹ پر مشتمل ہے۔ کینیڈین آرمڈ فورسز کے زیر انتظام سب سے بڑے اڈوں میں سے ایک ہونے کے ناطے، یہ اکثر نیٹو ممالک کے عملے کے لیے تربیتی مشقوں کی میزبانی کرتا ہے۔ کوریج میں بیان کردہ تاریخی ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے آخری مہینوں اور 1946 تک اس بیس کو جرمن جنگی قیدیوں کے لیے حراستی کیمپ کے طور پر بھی استعمال کیا گیا تھا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
بین الاقوامی مبصرین اور عام قارئین کے لیے یہ واقعہ امن کے زمانے کی تربیتی مشقوں کے دوران بھی بین الاقوامی فوجی تعیناتیوں سے جڑے خطرات اور سخت تیاریوں کو اجاگر کرتا ہے۔ دنیا بھر میں فوجی دستوں کے پیچیدہ آپریشنل انتظامات کے دوران، حفاظتی پروٹوکول اور موسم جیسے غیر متوقع ماحولیاتی عوامل دفاعی حکام کے لیے اہم ترین خدشات بنے ہوئے ہیں۔

