ٹیلی ویژن کی دنیا کا ایک جانا پہچانا چہرہ اور معذور افراد کی آواز بننے والے اداکار آر جے مٹے 34 برس کی عمر میں ٹیکساس کے شہر براؤنزویل میں انتقال کر گئے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق ان کے ترجمان نے موت کی فوری وجہ ظاہر نہیں کی۔
ان کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انتہائی دکھ کے ساتھ ہمیں یہ المناک خبر شیئر کرنا پڑ رہی ہے کہ ہمارے پیارے اداکار، مخیر اور معذور افراد کے حقوق کے پرجوش حامی آر جے مٹے اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔
اہم حقائق
- بی بی سی نیوز کے مطابق آر جے مٹے 34 برس کی عمر میں ٹیکساس کے شہر براؤنزویل میں انتقال کر گئے اور ان کے ترجمان کی طرف سے موت کی کوئی فوری وجہ نہیں بتائی گئی۔
- بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ اداکار معروف ترین ڈرامہ سیریز 'بریکنگ بیڈ' میں منشیات کے اسمگلر والٹر وائٹ کے باغی بیٹے والٹر وائٹ جونیئر کا کردار ادا کر کے دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔
- بی بی سی نیوز نے بتایا کہ مٹے نے اس سیریز میں اپنی شاندار اداکاری پر 2014 میں اسکرین ایکٹرز گِلڈ ایوارڈ حاصل کیا اور اس دوران اپنے ذاتی تجربے کو بھی بروئے کار لائے جو انہیں پیدائشی فالج (سیریبرل پالسی) کی وجہ سے حاصل تھا۔
- بی بی سی نیوز کے ذریعے سامنے آنے والے ان کے ترجمان شان ریلی کے بیان کے مطابق مٹے نے اپنے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرا اور معذوری سے متعلق آگاہی اور شمولیت کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم تشکیل دیا۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق 'بریکنگ بیڈ' نامی یہ ڈرامہ 2008 سے 2013 تک پانچ سیزنز کے لیے امریکی کیبل براڈکاسٹر اے ایم سی پر نشر ہوا۔ ونس گیلیگن کے تخلیق کردہ اس ڈرامے کو 58 پرائم ٹائم ایمی نامزدگیاں ملیں اور اس نے 16 ایوارڈز اپنے نام کیے جن میں 2013 اور 2014 میں بہترین ڈرامہ سیریز کے دو ایوارڈز بھی شامل ہیں۔ اسے اکیسویں صدی کے بہترین امریکی ٹی وی شوز میں شمار کیا جاتا ہے۔
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق مٹے کی پرورش لوزیانا میں ہوئی تھی اور وہ کم عمر ہی تھے جب انہوں نے 2005 میں اپنی چھوٹی بہن کے اداکاری کے کیریئر میں مدد کے لیے لاس اینجلس کا رخ کیا اور اس کے بعد اس اہم کردار کے لیے آڈیشن دیا۔ ان کا یہ کردار گیلیگن کے ایک مرحوم دوست سے متاثر تھا جو اس بیماری میں زیادہ شدت کے ساتھ مبتلا تھے اور بازو کے سہارے چلنے والی بیساکھیاں استعمال کرتے تھے، جن کی مٹے کو ذاتی طور پر ضرورت نہیں تھی۔
بی بی سی نیوز کے مطابق اس ڈرامے سے شہرت حاصل کرنے کے بعد مٹے نے یونائیٹڈ سیریبرل پالسی اور شْرائنرز چلڈرن کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، اور فلاحی کاموں کے لیے 'دی مٹے فاؤنڈیشن' کی بنیاد رکھی جس کا مقصد دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرنا اور معذور افراد کی بہتر نمائندگی کو فروغ دینا تھا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر کے ناظرین اور ٹی وی دیکھنے والوں کے لیے ایک ایسے اداکار کا بچھڑ جانا جو میڈیا میں معذور افراد کی نمائندگی کی جنگ لڑ رہا تھا، اس جاری بحث کو اجاگر کرتا ہے جو ذرائع ابلاغ میں شمولیت کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔ مٹے کا پلیٹ فارم اور یونائیٹڈ سیریبرل پالسی جیسی تنظیموں کے ذریعے ان کی جدوجہد نے یہ دکھایا کہ فنکار کس طرح اپنی مقبولیت کو کمیونٹی کے فلاحی کاموں اور فرسودہ نظریات کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

