بی بی سی نیوز کے مطابق ایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے نے اعلان کیا ہے کہ ہایتی میں خصوصی فورسز کے حوالے کی جانے والی چار انسانی لاشیں ان کے لاپتہ ہونے والے افراد کی نہیں ہیں۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق نایب بوکیلے نے بتایا کہ ایک غیر سرکاری تنظیم نے ہوائی اڈے پر یہ باقیات لا کر دعویٰ کیا تھا کہ یہ چاروں لاپتہ سلواڈورین فضائی تکنیکی ماہرین کی ہیں۔ تاہم صدر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان میں سے ایک لاش بچے کی تھی اور دوسری پر کسی اور ملک کی فوج کا یونیفارم موجود تھا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق اس سے قبل نیویارک ٹائمز کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پورٹ او پرنس کے بیرونی علاقوں سے ملنے والی شدید جلائی گئی لاشیں لاپتہ عملے کی ہوسکتی ہیں۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق یہ لاپتہ افراد اقوام متحدہ کے تعاون سے بننے والی گینگ سپریشن فورس (جی ایس ایف) کا حصہ تھے، جنہیں ہایتی میں گینگ تشدد کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ لوگ ایک بکتر بند گاڑی میں سوار تھے جب ان پر کروکس ڈی باویٹس کے علاقے میں حملہ کیا گیا، اور کسی بھی گینگ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ بی بی سی نیوز کے مطابق صدر نایب بوکیلے نے تقریباً 450 فوجیوں کو روانہ کیا تھا، اور اس تعداد کا ماخذ ہایتی کا اخبار لی نوویلست بتایا گیا ہے۔ صدر بوکیلے نے واضح کیا کہ اس مشن کا مقصد ان چاروں افراد کو زندہ واپس لانا تھا اور وہ جنگ لڑنے کے بجائے طبی انخلا اور انسانی جانیں بچانے گئے تھے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ہایتی 2021 کے صدارتی قتل کے بعد شدید گینگ تشدد کا شکار ہے، اور اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق یکم جنوری سے 11 ستمبر کے دوران گینگز کے حملوں یا کارروائیوں میں 5700 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔

اس خبر کی اہمیت

بین الاقوامی امن مشنز اور سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے والوں کے لیے یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شدید بحران اور مسلح تصادم کے شکار علاقوں میں اہلکاروں کو کتنے خطرات اور پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لاپتہ اہلکاروں کے بارے میں متضاد اطلاعات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایسے فعال جنگی علاقوں میں معلومات کی تصدیق کتنی مشکل ہوتی ہے جہاں بین الاقوامی فورسز کو مسلح گروہوں کے زیر اثر علاقوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔