آسٹریلیا کے ایک علاقائی قصبے میں پیش آنے والے ایک پُرتشدد واقعے نے پورے علاقے اور متاثرہ خاندان کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں ایک خاتون پارلیمنٹیرین کو گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق آزاد رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز اپنے انتخابی دفتر کے باہر مبینہ طور پر جان بوجھ کر کیے جانے والے کار حملے کے نتیجے میں اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہو گئیں۔

تقریباً 40 سال کے رفاقت والے شوہر فل ہینز نے بتایا کہ ان کی اہلیہ کو صحت کی بحالی کے لیے ایک طویل اور مشکل سفر کا سامنا ہے مگر انہوں نے اپنی اہلیہ کے عزم و حوصلے کی تعریف کی۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ اس ہولناک واقعے اور شدید زخموں کے باوجود ان کا دل اور دماغ بالکل درست حالت میں ہے اور سب سے مثبت بات یہ ہے کہ وہ اس حادثے میں زندہ بچ گئی ہیں۔

بی بی سی نیوز کے مطابق مبینہ حملہ آور کی شناخت 43 سالہ برینڈن نیو جেন্ট کے طور پر ہوئی ہے جسے اس واقعے کے سلسلے میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس بیانات اور عدالتی دستاویزات کے حوالے سے بی بی سی نیوز نے بتایا کہ ملزم کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس نے مبینہ طور پر وکٹوریہ کے علاقائی قصبے میں وفاقی قانون ساز پر اپنی ٹয়োٹا لینڈ کروزر چڑھا دی تھی۔

عدالت میں پیشی کے دوران ملزم کو سنگین نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا جن میں خطرناک ڈرائیونگ سے شدید زخمی کرنا، ارادتاً شدید نقصان پہنچانا، کسی کامن ویلتھ پبلک عہدیدار کو نقصان پہنچانا اور بھنگ کی کاشت اور قبضے کے الزامات شامل ہیں۔ بی بی سی نیوز کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران اقدام قتل جیسے مزید الزامات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق یہ واقعہ میلبورن سے تقریباً 240 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع علاقائی قصبے وانگاراٹا میں پیش آیا۔ قریبی قصبے ٹاراوانگی کے رہائشی اور ماحول دوست مہم کے طور پر جانے جانے والے ملزم نے عدالت میں اپنی مختصر پیشی کے دوران خاموشی اختیار کی، کوئی جذبہ ظاہر نہیں کیا اور ضمانت کی درخواست بھی دائر نہیں کی۔

بی بی سی نیوز کی کوریج کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران دفاعی وکیل نے بتایا کہ ملزم کو دماغی صحت کے مسائل اور ریڑھ کی ہڈی کی سوجن سے جڑی ایک نایاب اعصابی بیماری لاحق ہے۔ وکٹوریہ پولیس کمشنر مائیک بش نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ حملے کا محرک ابھی تک سامنے نہیں آ سکا ہے اور آسٹریلوی فیڈرل پولیس کے تعاون سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پولیس نے بی بی سی نیوز کو یہ بھی تصدیق کی کہ ملزم اس سے پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں نہیں تھا اور ایسا کوئی پیشگی انٹیلی جنس الرٹ نہیں تھا جو رکن پارلیمنٹ کو کسی خطرے کی نشان دہی کرتا ہو۔

آگے کیا ہوگا

ملزم اس وقت حراست میں ہے اور فروری میں اسے دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ اس مبینہ حملے کے محرکات جاننے کے لیے پولیس کی تفتیش تاحال جاری ہے۔