نیو لینڈز کے میدان پر ٹیسٹ میچ اب ایک سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں آسٹریلیا نے سیریز اپنے نام کرنے کے لیے شکنجہ کس لیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، تیسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو جنوبی افریقہ کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز بنا سکی تھی، اور اسے آسٹریلیا کے خلاف صرف 40 رنز کی کمزور برتری حاصل ہے جبکہ اس کی 6 وکٹیں ابھی باقی ہیں۔

اس صورتحال میں فاسٹ بولر مچل سٹارک نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان ٹیم کی بیٹنگ لائن کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، سٹارک نے دوسری اننگز میں بھی دو اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ پہلی اننگز میں وہ 72 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کر چکے تھے۔ جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز کا آغاز انتہائی خراب رہا جب ایڈن مارکرم صرف 1 رن بنا کر سٹارک کی گیند پر مڈ آف پر کیچ دے بیٹھے، جبکہ ڈیوڈ بیڈنگھم بھی جوش ہیزل ووڈ کی گیند پر 11 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

میچ کا پس منظر

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، آسٹریلیا نے تیسرے دن کا آغاز 4 وکٹوں پر 330 رنز سے کیا اور پوری ٹیم 429 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی، جس کی بدولت اسے پہلی اننگز میں 100 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔ اس دوران جوش انگلیس نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے اپنے کیریئر کی دوسری ٹیسٹ سنچری مکمل کی، انہوں نے 132 گیندوں پر 102 رنز بنائے اور سمن ہارمر کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ انگلیس نے ایلکس کیری کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ کی شراکت میں 185 رنز جوڑے، اور ایلکس کیری نے 80 رنز کی اننگز کھیلی۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے مارکس ایکرمین اور کپتان ٹیمبا باوما کے درمیان تیسری وکٹ پر 64 رنز کی شراکت قائم ہوئی لیکن ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مچل سٹارک نے ایک خطرناک باؤنسر پر ایکرمین کو 62 رنز پر پویلین واپس بھیج کر اس مزاحمت کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد دن کے آخری اوورز میں نیتھن لیون نے کپتان ٹیمبا باوما کو 35 رنز پر آؤٹ کر کے میزبان ٹیم کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔

اس کی اہمیت

پاکستان میں موجود وہ شائقین جو بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ پر گہری نظر رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسی بڑی ٹیموں کے درمیان ایسے سخت مقابلے ریڈ بال کرکٹ کے دباؤ اور اس کے بدلتے ہوئے رنگوں کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ میچ اپنے فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے، شائقین ایک بار پھر اس حقیقت کے معترف ہو رہے ہیں کہ اعلیٰ سطح کے طویل فارمیٹ کے میچوں میں معمولی غلطیاں بھی کتنی بھاری پڑ سکتی ہیں۔