اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں اس وقت دلچسپ اور سخت صورتحال پیدا ہو گئی جب جج نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ وہ انتہائی نڈر شخص ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے مقدمے کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کے عدالت میں موجود نہ ہونے اور مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

جیو نیوز کے مطابق یہ مقدمہ سکیورٹی کی خلاف ورزی اور سرکاری امور میں مداخلت کے الزامات کے تحت درج ہے۔ سماعت کے دوران جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے واضح کیا کہ بار یا قانونی برادری سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص انہیں دباؤ میں نہیں لا سکتا اور وہ آزادانہ فیصلے کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے اور تفتیشی افسر کے غائب ہونے کی وجہ سے عدالتی کارروائی میں مشکلات پیش آئیں۔ بتایا گیا کہ متعلقہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان کے علاقے خپلو میں موجود تھے۔ سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے وکلاء ریاست علی اور ایمال میندخیل نے دلائل دیے جبکہ پراسیکیوٹر نوید کیانی بھی عدالت میں موجود تھے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں اور ضمانتی مچلکوں پر ریلیف دینے کے امور کا بھی تذکرہ کیا۔ جب ایس پی خرم اور ڈی ایس پی نعیم یوسف تفتیشی افسر کی غیر حاضری کی وجوہات بیان کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر انسداد دہشتگردی عدالت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو طلب کر لیا اور متعلقہ ایس پی اور ڈی ایس پی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔

اس معاملے کی اہمیت کیا ہے

پاکستان کے عام شہریوں اور سائلین کے لیے عدالتوں میں ریکارڈ پیش نہ ہونے اور تفتیشی افسران کی عدم موجودگی کے باعث قانونی چارہ جوئی طویل ہو جاتی ہے اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ یہ عدالتی کارروائی عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اس انتظامی کھینچ تانی کو بے نقاب کرتی ہے جب اہم دستاویزات وقت پر عدالت تک نہیں پہنچ پاتیں۔

آگے کیا ہوگا

جیو نیوز کے مطابق عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے اسلام آباد کے آئی جی کو طلب کر رکھا ہے جبکہ غفلت برتنے والے پولیس افسران کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔