جب جنگ کے سائے ہسپتالوں تک پہنچ جائیں تو معصوم اور بے بس انسانیت کی تکلیف دل دہلا دیتی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یوکرین کے شہر خارکیو میں رات گئے ہونے والے روسی میزائل اور بم حملوں کے نتیجے میں سٹی کلینیکل ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا، جس سے کم از کم 73 افراد زخمی ہو گئے۔

الجزیرہ نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے حوالے سے بتایا کہ اس بڑے حملے کا بنیادی ہدف توانائی کا ڈھانچہ تھا، جس سے اوڈیسا، چرکاسی، ژائٹومیر، ونیٹسیا، خارکیو، دنیپرو، چرنیوتسی، چرنیہیو اور ریوین کے علاقوں میں بجلی کی پیداوار اور سب سٹیشن متاثر ہوئے۔ صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ روس نے اس کارروائی میں 289 حملہ آور ڈرون، 17 بیلسٹک میزائل اور 59 کروز میزائل فائر کیے۔

خارکیو کے میئر ایغور تیروخوف نے ٹیلی گرام پر تصدیق کی کہ ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا ہے اور عمارت کے ایک ہزار سے زائد شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ ژائٹومیر کے گورنر ویتالی بونیشکو نے بتایا کہ منگل کی صبح تک 18万 (180,000) سے زائد افراد بجلی سے محروم ہو گئے تھے، جبکہ اوڈیسیا میں بھی بجلی کی بندش کے طے شدہ شیڈول پر عمل کیا گیا۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے اپنے فوجی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی افواج نے ونیٹسیا، دنیپروپیترووسک اور خارکیو کے علاقوں میں بجلی کے مراکز کو نشانہ بنایا، کیونکہ یہ مقامات یوکرین کی فوج اور عسکری کارخانوں کو بجلی فراہم کر رہے تھے۔ ایک اور واقعے میں، رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ یاروسلاول میں روس کی ایک تیل تنصیب پر یوکرین کے ڈرون حملے کے دوران آگ لگ گئی، جس سے وہاں کے دو ملازم زخمی ہو گئے۔ گورنر میخائل یوریف نے اس واقعے کی تصدیق کی۔

پس منظر

رپورٹس کے مطابق، حملوں کی اس تازہ لہر سے ایک دن قبل امدادی سامان کی تقسیم کے ایک مرکز پر ہونے والے حملے میں کم از کم 29 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس جاری تنازع نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں مسلسل سویلین بنیادی ڈھانچے اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین کے لیے، عالمی تنازعات کے بڑے مراکز میں کشیدگی اکثر گہرے معاشی اثرات رکھتی ہے۔ بین الاقوامی توانائی کے نظام، اہم انفراسٹرکچر اور عالمی رسد کی زنجیروں میں رکاوٹیں براہ راست اشیا کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں ایندھن اور یوٹیلیٹی کے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

الجزیرہ کے مطابق، سفارتی کوششیں بھی آگے بڑھ رہی ہیں کیونکہ امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے اعلان کیا ہے کہ امریکی، روسی اور یوکرینی حکام اگلے ہفتے ابوظہبی میں ملاقات کریں گے تاکہ جنگ کے بعد کے سیکیورٹی انتظامات، کشیدگی میں کمی، انسانی امداد اور امن کی طرف اقدامات پر بات چیت کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، امریکی مذاکرات کار اس ہفتے برسلز میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، یورپی یونین اور نیٹو کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ سیکیورٹی کی ضمانتوں اور یورپ کے مستقبل کے سیکیورٹی ڈھانچے پر غور کیا جا سکے۔