عالمی توانائی کی مارکیٹس ایک بار پھر شدید دباؤ کی زد میں ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کے اہم سپلائی روٹس کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتیں 102 ڈالر فی بیرل کی اہم حد سے تجاوز کر گئی ہیں۔ قیمتوں میں یہ اضافہ اس بے چینی کا عکاس ہے جو بین الاقوامی تجارت کو گھیرے ہوئے ہے، کیونکہ بحری گزرگاہوں کو سیکیورٹی کے کٹھن چیلنجز کا سامنا ہے۔

مارکیٹ کی صورتحال اور اعداد و شمار

ایکسپریس ٹ্রিبیون کی رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ کے فیوچرز میں 2.28 ڈالر کا اضافہ ہوا، جو کہ 2.28 فیصد کی تیزی کو ظاہر کرتا ہے، اور اس طرح قیمت 102.28 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ یہ ہلچل اس بات کی غماز ہے کہ عالمی اجناس جغرافیائی سیاسی صورتحال اور اہم سمندری گزرگاہوں میں رکاوٹوں کے خلاف کتنی فوری حساسیت رکھتی ہیں۔

سپلائی کے خدشات برقرار

تیل کی قیمتوں پر اوپر کی جانب یہ دباؤ بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ میں سپلائی کے استحکام سے متعلق مسلسل خدشات کی وجہ سے ہے۔ چونکہ بحری حملے خطے کے اہم پانیوں سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں، اس لیے مارکیٹ کے تجزیہ کار اور توانائی کے تاجر ممکنہ تعطل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جو بین الاقوامی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کو مزید محدود کر سکتا ہے۔