بجلی کے بلوں میں ایک اور اضافہ

ملک بھر میں بجلی کے صارفین کو ایک بار پھر اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ پاور سیکٹر میں ایک اور مالی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے دی گئی ہے۔ روزنامہ ایکسپریس ٹ্রিبیون کی رپورٹ کے مطابق، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اکتوبر کے بلنگ سائیکل کے لیے فی یونٹ 1.11 روپے کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی ہے۔

پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے گھرانوں اور کاروباری طبقے کے لیے یوٹیلیٹی بلوں میں کسی بھی قسم کا اضافہ گہری تشویش کا باعث بنتا ہے۔ اس تازہ ترین نظرثانی سے پورے ملک میں بجلی کے ماہانہ بلوں کے حساب کتاب میں واضح تبدیلی آئے گی۔

قانونی تر ترمیمات اور ریگولیٹری بنیاد

پاور سیکٹر میں ہونے والی ہر ایڈجسٹمنٹ ایک مخصوص انتظامی اور قانونی دائرہ کار کے تحت عمل میں آتی ہے۔ ایکسپریس ٹ্রিبیون کے مطابق، ریگولیٹر نے واضح کیا ہے کہ یہ تازہ ترین ایڈجسٹمنٹ حالیہ قانونی ترامیم کے بعد کی گئی ہے جو ایندھن کی لاگت میں اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر ٹیرف میں تبدیلی کی اجازت دیتی ہیں۔

پاکستان میں بجلی کی پیداوار کی لاگت کا انحصار بڑی حد تک ایندھن کی قیمتوں پر ہے، جہاں درآمدی اور مقامی ایندھن تھرمل پاور پلانٹس کو چلاتا ہے۔ جب بجلی پیدا کرنے کی لاگت بدلتی ہے، تو حتمی قیمت کو صارفین تک منتقل کرنے کے لیے ریگولیٹری میکانزم متحرک ہو جاتا ہے۔

گھریلو معیشت پر اثرات

جیسے جیسے اکتوبر کا بلنگ دورانیہ قریب آ رہا ہے، صارفین اسن نئے منظور شدہ اضافے کے مالی اثرات کو محسوس کرنا شروع کر دیں گے۔ اگرچہ ریگولیٹری ادارے انتظامی حقائق اورعوامی ریلیف کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ماہانہ یوٹیلیٹی بلوں کا یہ سلسلہ ملک بھر کے گھرانوں کی معاشی منصوبہ بندی پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔