آسٹریلیا میں جنگلاتی آگ کے معاملے پر عالمی ادارے گلوبل ڈیزاسٹر الرٹ اینڈ کوآرڈینیشن سسٹم (جی ڈی اے سی ایس) نے گرین الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق آگ لگنے کے اس واقعے میں انسانی جانی نقصان اور متاثرہ آبادی کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر اس کا انسانی اثر کم سطح پر رکھا گیا ہے، جس کا اندازہ جلنے والے رقبے اور وہاں کی آبادی کیحساسیت کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔
جی ڈی اے سی ایس کے مطابق، یو ایس جی ایس (USGS) زلزلے کے فوری تخمینے کے نظام (PAGER) کے تحت ہر زلزلے میں جانی نقصان کا اندازہ لگاتا ہے اور جاری کردہ گراف میں ہلاکتوں کے موجودہ تخمینے کو واضح کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے حوالے سے جی ڈی اے سی ایس نے متعدد عالمی اور علاقائی اداروں کے ذرائع کے لنکس بھی فراہم کیے ہیں، جن میں ای سی۔جے آر سی (28)، ڈبلیو ایم او (1)، انفارم (2)، اور جے آر سی (1) کے حوالہ جات شامل ہیں۔
پس منظر
جی ڈی اے سی ایس کا کہنا ہے کہ جنگلاتی آگ کا انسانی زندگی پر اثر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کتنا رقبہ خاکستر ہوا ہے، کتنی آبادی اس سے متاثر ہوئی ہے اور وہاں کے لوگوں کی حفاظتی صلاحیت یا کمزوری کیسی ہے۔ اس کے علاوہ زلزلے کے ہنگامی جائزوں کے لیے یو ایس جی ایس کے تیار کردہ نظام کا تخمینہ بھی اس سلسلے میں اہمیت رکھتا ہے، جس کا تفصیلی گراف صورتحال کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے؟
اس صورتحال کی اہمیت اس بات میں ہے کہ جی ڈی اے سی ایس کی جانب سے جاری کردہ گرین نوٹیفکیشن سے اندازہ ہوتا ہے کہ متاثرہ علاقے اور آبادی کے حالات کو دیکھتے ہوئے انسانی نقصان کا خطرہ فی الحال کم ہے۔ اس حوالے سے مختلف معتبر اداروں جیسے کہ ای سی۔جے آر سی، ڈبلیو ایم او، انفارم اور جے آر سی کے فراہم کردہ اعداد و شمار اور معلومات کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ صورتحال کا درست ادراک کیا جا سکے۔

